خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 583 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 583

خطبات مسرور جلد نهم 583 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء بہت بڑی نیکی ہے۔احادیث میں بھی اس کی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے، یہ بخاری کی حدیث ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جو کوئی مسلمان غلام آزاد کرے گا، اللہ تعالیٰ اُسے دوزخ سے کلی نجات عطا کرے گا۔( بخاری کتاب کفارات الایمان باب قول اللہ تعالیٰ: او تحریر رقبہ۔۔۔حدیث نمبر 6715) پھر اسلام میں مختلف مواقع پر کفارہ کے طور پر غلام آزاد کرنے کی تعلیم قرآنِ کریم میں متعد د جگہ ہے۔کہیں فرمایا کہ اگر کوئی مومن غلطی سے کسی مومن کے ہاتھ سے قتل ہو جائے تو غلام آزاد کرو اور خون بہا بھی ادا کرو۔(النساء: 93) اور صرف مومن کے قتل پر ہی غلام آزاد کرنے کی یہ سزا نہیں سنائی گئی یا اس کی تحریک نہیں کی گئی۔بلکہ فرمایا کہ اگر کسی قوم کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے اور اُس کا کافر بھی تم سے قتل ہو گیا ہے تو ایک غلام کو آزاد کرو۔(النساء: 93) پھر خدا کی قسم کھا کر توڑنے کی سزا میں جہاں اپنی حیثیت کے مطابق مختلف امکانات دیئے گئے ہیں کہ اگر یہ نہیں تو یہ سزا ہے ، یہ نہیں تو یہ سزا ہے، وہاں ایک سزا غلام آزاد کرنے کی بھی ہے۔(المائدہ :90) پس مختلف موقعوں پر غلاموں کی آزادی کا جو ذکر ہے یہ اس لئے ہے کہ اسلام آہستہ آہستہ غلامی کے سلسلہ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔اُس زمانے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یا آپ سے پہلے کا زمانہ تھا، غلام رکھنے کا عام رواج تھا۔اسلام نے آکر اس غلامی کے طریق کو ختم کرنے کے لئے مختلف موقعوں پر زور دیا ہے جیسا کہ میں نے بتایا۔بلکہ احادیث میں یہ بھی آتا ہے، ایک روایت اسماء بنت ابی بکر سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو فرمایا کرتے تھے کہ سورج گرہن کے موقع پر بھی غلام آزاد کیا کرو۔(بخاری کتاب العتق باب ما يستحب من العتاقة في الكسوف والایات حدیث (2520) یعنی جو صاحب حیثیت ہیں جن کو توفیق ہے وہ ایسا ضرور کریں۔پھر غلام کی عزت اور اُس کے حق کی آپ نے اس طرح بھی حفاظت فرمائی کہ ایک روایت میں آتا ہے۔سات بھائی تھے اور اُن کے پاس ایک مشترک غلام تھا۔ایک موقع پر ایک بھائی کو غلام پر غصہ آیا تو اُس نے اُس کو غصے میں زور سے ایک طمانچہ مار دیا، چپیڑ مار دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں جب یہ بات آئی تو آپ نے فرمایا اس غلام کو آزاد کرو۔(مسلم کتاب الايمان باب صحبة المماليك و كفارة من لطم عبده حديث 4304) تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس غلام کو رکھو کیونکہ تمہیں غلام سے حسن سلوک ہی نہیں کرنا آتا۔غرض کہ اگر اُس زمانے میں جائیں جہاں غلام رکھنا ایک عام بات بھی تھی اور جو امراء تھے اُن کے لئے ایک بڑی دولت بھی تھی۔جتنے زیادہ کسی کے پاس غلام ہوتے تھے اتنا ہی وہ امیر سمجھا جاتا تھا اور امیر لوگ غلام رکھتے بھی تھے۔اس وقت یہ حکم ہیں کہ اگر اصل دولت چاہتے ہو جو ایمان کی دولت ہے تو بہتر ہے کہ غلاموں کو آزاد کر و۔اُن کی آزادی کے سامان پیدا کرو۔اور اس حکم کے تحت صحابہ نے حسب توفیق در جنوں سے ہزاروں تک غلاموں کو آزاد کیا ہے۔حضرت عثمان بن عفان کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے ایک ہی موقع پر بیس ہزار غلام آزاد کئے اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے کئے۔جن کو جتنی جتنی توفیق تھی انہوں نے اتنے گئے۔بعضوں نے درجنوں کئے اور