خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 575
575 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کی لکھتی ہیں کہ اُمی کو اپنے سب بہن بھائیوں سے بہت محبت تھی۔یہ بات مذاق میں بھی برداشت نہیں تھی کہ اُن کے بہن بھائیوں کے بارے میں کوئی بات کرے یا سوال کرے کہ فلاں آپ کا سگا بہن بھائی ہے یا سوتیلا۔(حضرت مصلح موعودؓ کی بیویاں تھیں۔ہر بیوی سے مختلف اولاد تھی تو سگے سوتیلے کا بھی وہاں سوال نہیں اُٹھا) اور اگر کبھی کوئی پوچھ بھی لیتا تو فوراً کہتیں کہ یہ سگے سوتیلے کی باتیں نہیں کرنی کیونکہ یہ بات اباجان کو یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو سخت ناپسند تھی۔لکھتی ہیں کہ ہمارے ایک غیر احمد کی چانے کہا کہ بھا بھی ہمیشہ بہت و قار کے ساتھ رہتی ہیں۔پھر والدہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ خالہ اُمی سے بہت محبت تھی اور اکثر کہا کرتی تھیں کہ باجی جان نے مجھے پالا ہے۔ایک دفعہ ابا جان نے مجھے باجی جان کے سپر د کر دیا اور باجی جان نے اُسے ہمیشہ نبھایا۔( ہماری والدہ کو چھوٹے بہن بھائی باجی جان کہتے تھے )۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنی ایک خواب کا ذکر کیا۔بڑی لمبی خواب ہے جس میں حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ آئی ہیں اور اور باتوں کے علاوہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو کہا کہ آپ مجھ سے خفا ہو گئے ہیں تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں اُن کو جواب دیا کہ تم نے تو مجھے چھیر و (صاحبزادی امتہ النصیر کو گھر میں پیار سے چھیر و کہتے تھے ) جیسی بیٹی دی ہے میں کیسے خفا ہو سکتا ہوں۔(ماخوذاز رؤیاو کشوف سید نا محمود صفحه 567-568 رویا نمبر 598 زیر اہتمام فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) اس بات کا بہت خیال رکھتی تھیں کہ آپ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہیں اور یہ کہ آپ کی وجہ سے حضور رضی اللہ عنہ کی ذات پر کوئی حرف نہ آئے۔ایک واقعہ جو آپ نے کئی اجلاسات میں بھی سنایا کہ ایک دفعہ آپ اپنے بھائی کے گھر جارہی تھیں جو سڑک کے دوسری طرف تھا۔یعنی ادھر ان کا گھر ہے اور سڑک کے پار بھائی کا گھر تھا کہ سامنے تو بھائی کا گھر ہے جہاں جانتا ہے تو آپ نے بجائے اس کے کہ با قاعدہ برقعہ پہنیں اور نقاب باندھیں برقعہ کا نچلا حصہ سر پر ڈال لیا۔برقعہ کا جو کوٹ ہوتا ہے وہ سر پر ڈال کے گھونگٹ نکال کے چل پڑیں۔جب گھر سے باہر نکلیں اور سڑک کے درمیان میں پہنچیں تو دیکھا کہ حضرت مصلح موعودؓ بھی سڑک پر تشریف لا رہے ہیں۔پرانے زمانے کی بات ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی قصر خلافت سے اس طرف آرہے تھے۔فرماتی ہیں کہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔چنانچہ میں اسی طرح اپنے گھر آگئی۔میرا خیال تھا کہ حضور کا دھیان میری طرف نہیں ہو گا۔اگلے روز جب میں ناشتے کے وقت حضور سے ملنے گئیں تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا۔دیکھو تم ایک قدم آگے بڑھاؤ گی تو لوگ دس قدم آگے بڑھائیں گے۔پس پردے کا خیال، لحاظ رکھو۔اس طرح حضرت مصلح موعودؓ تربیت فرمایا کرتے تھے۔اللہ کرے ان کے بچوں میں بھی اور خاندان کی باقی بچیوں میں بھی اور جماعت کی بچیوں میں بھی پردے کا احساس اور خیال ہمیشہ رہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے جو مضمون لکھا جس کا میں نے ذکر کیا تھا اُس میں آپ لکھتے ہیں کہ امۃ النصیر جو تین ساڑھے تین سال کی عمر کی بچی ہے اور ہر وقت اپنی ماں کے پاس رہنے کے سبب اس سے بہت زیادہ مانوس تھی۔