خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 569 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 569

569 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم وسلم کو اتنادُ کھ تھا کہ آپ نے دشمن کو بُرا کہا اور کہا کہ ہماری نمازیں ضائع کر دی ہیں۔بہر حال یہ حدیث جو میں نے پچھلی دفعہ خطبہ میں پڑھی تھی اس کو پڑھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ہمارے لٹریچر میں بھی جہاں اس کا ذکر ہے وہاں اصلاح ہو جائے گی۔ایک تو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی سیرۃ النبی کی جو کتاب ہے اُس میں بیان ہوئی ہے لیکن وہاں صحیح رنگ میں بیان ہوئی ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔اور وہاں آپ نے ولیم میور کے الفاظ لکھے ہیں جس نے چار نمازیں جمع کرنے کا ذکر کیا ہے۔لیکن حضرت میاں صاحب نے ( مرزا بشیر احمد صاحب نے) وہاں اس کے بیان کی نفی کر دی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو فیصلہ ہے کہ صرف عصر کی نماز بے وقت ادا ہوئی تھی، جو حدیثوں میں بھی ملتا ہے ، بخاری سے ہی ملتا ہے ، اُسی کے مطابق اس کی وضاحت کی ہے۔(ماخوذاز سیرت خاتم النبیین صلی علی دلم از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 588 ایڈیشن سوم 2003ء) لیکن ایک اور جگہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 23 مئی 1986ء میں اپنے ایک خطبے میں پانچ نمازوں کے جمع ہونے کا بیان فرمایا ہے اور مسند احمد بن حنبل کے حوالے سے بھی یا بخاری کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔لیکن طاہر فاؤنڈیشن نے جو خطبات شائع کئے ہیں اُس میں بخاری کتاب المغازی کا حوالہ دیا ہوا ہے حالانکہ وہاں بخاری میں اس کتاب المغازی کے تحت یہ اس طرح بیان نہیں ہوئی۔(خطبات طاہر جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 377 379- (خطبہ جمعہ 23 مئی 1986ء) طاہر فاؤنڈیشن ربوہ) میں عموماً اصل حدیثیں خود دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن میں نے حدیث کا یہ حوالہ کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے اس خطبہ میں دیکھا تھا اس لئے میں نے چیک نہیں کیا۔اور پھر یہ حوالہ بھی ( درج) تھا اس لئے غلطی بھی بہر حال ہوئی۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس غلطی کا فائدہ ہوا۔ایک تو لٹریچر میں جہاں کہیں بھی اگر ہے تو درستی ہو جائے گی۔دوسرے مجھے خود بھی احساس ہو گیا ہے کہ بعض دفعہ جو حوالے کہیں سے لیتا ہوں اُن کو مزید چیک کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تیسرے یہ کہ ہمارے ادارے یہ خیال رکھیں کہ جب پہلے خلفاء کی بھی تقریر یا خطبہ شائع کر رہے ہوں تو اصل حوالہ اور اگر اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی ارشاد ہو تو اسے ضرور دیکھنا چاہئے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ خلیفہ وقت کے الفاظ کو خود کوئی ٹھیک نہیں کرے گا بلکہ خلیفہ وقت سے ہی پوچھنا چاہئے۔اور پہلے خلفاء کا اگر کہیں بیان ہوا ہے تو ان حوالوں کی صحیح روایت احادیث میں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب میں کہیں ملتی ہے تو اس کے مطابق درستی ہونی چاہئے لیکن وہ خلیفہ وقت سے پوچھ کر درستی ہو گی۔اس لئے طاہر فاؤنڈیشن والوں کو بھی اس خطبے میں جو 1986ء کا خطبہ ہے ، جہاں پانچ نمازوں کے جمع ہونے کی یہ مثال دی گئی ہے ، اس کی اصلاح کرنی چاہئے تھی۔اب آئندہ ایڈیشنوں میں اس کی اصلاح کریں۔کس طرح کرنی ہے ؟ وہ مجھے لکھ کر بھجوائیں گے تو پھر ان کی رہنمائی کی جائے گی کہ کس طرح اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اور آئندہ بھی یہی اصول