خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 568 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 568

568 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر جو تفصیل سے روشنی ڈالی ہے وہ اب پڑھ دیتا ہوں۔ایک عیسائی پادری فتح مسیح صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت زیادہ اعتراض کئے اور ایک بڑا گندہ خط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا تو اس کا جواب آپ نے نور القرآن حصہ دوم میں دیا ہے۔مختلف قسم کے اعتراضات ہیں ، اُن کے جواب ہیں۔اس میں ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن چار نمازیں نہیں پڑھیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو جواب فرمایا وہ اُس میں لکھا ہوا یہ ہے کہ آپ فتح مسیح کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اور آپ کا یہ شیطانی وسوسہ “ (یعنی فتح مسیح کا یہ شیطانی وسوسہ) کہ خندق کھودتے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں۔اول آپ لوگوں کی علمیت تو یہ ہے کہ قضا کا لفظ استعمال کیا ہے۔اے نادان قضا نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ترک نماز کا نام قضا ہر گز نہیں ہو تا۔اگر کسی کی نماز ترک ہو جاوے ( چھٹ جاوے) تو اس کا نام فوت ہے۔اسی لئے ہم نے پانچ ہزار روپے کا اشتہار دیا تھا کہ ایسے بیوقوف بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جن کو ابھی تک قضا کے معنی بھی معلوم نہیں“۔اس بارے میں عموماً ہمارے ہاں بھی بعض لوگوں کو پتہ نہیں ہو تا۔وہ یہی سمجھتے ہیں کہ قضا کا مطلب یہی ہے کہ نماز ضائع ہو گئی۔حالانکہ قضا کا مطلب ہے ادائیگی کی گئی۔اور کچھ وقت کے بعد نماز کی ادا ئیگی ہو گئی۔فرماتے ہیں کہ ”جو شخص لفظوں کو بھی اپنے محل پر استعمال نہیں کر سکتا وہ نادان کب یہ لیاقت رکھتا ہے کہ امور دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے“۔( یہ جو گہرے امور ہیں ان پر کسی قسم کا اعتراض کرے۔) ”باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں۔اس احمقانہ وسوسے کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے“۔(یعنی کسی قسم کی کوئی تنگی اور سختی نہیں) یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو۔اس لئے اُس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے۔مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں“۔( یعنی چار نمازیں جمع کرنے کا ذکر نہیں ہے) بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوةُ العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرا بٹھا کر پوچھتے کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہو گئی تھیں ( یعنی ادا ہی نہیں کی گئی تھیں۔چار نمازیں تو خود شرع کی رُو سے جمع ہو سکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء۔ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اکٹھی کر کے پڑھی گئی تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو رد کرتی ہیں اور صرف یہی ثابت ہو تا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی“۔(نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 389-390) پس آپ علیہ السلام کے اس فیصلہ کے بعد، اس مہر ثبت کرنے کے بعد یہ چار نمازیں پڑھنے والی بھی جو حدیث ہے وہ بھی غلط ہے۔صرف عصر کی نماز کا ہوا تھا لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ