خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 567
خطبات مسرور جلد نهم 567 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء اور اسی طرح بیہقی نے بھی اس روایت کو لکھا ہے اور سعودی عرب میں کوئی مکتبہ ، مکتبۃ الرشد ہے انہوں نے 2004ء میں یہ شائع کی تھی، وہاں سے بھی یہ ملتی ہے۔(السنن الكبری از امام بیهقی کتاب الصلاة ، ذکر جماع ابواب الاذان والاقامة باب صحة الصلاة مع ترك الاذان والاقامة او ترك احدهما حديث 1954 جلد 1 صفحه 540-541 ، مكتبة الرشد سعودی عرب 2004ء) لیکن صحیح بخاری، مسلم اور سنن ابی داؤد میں حضرت علیؓ کے حوالے سے جو حدیث ہے وہ اس طرح ہے کہ حضرت علی بیان فرماتے ہیں کہ خندق کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھرے۔انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطی سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔( صحیح بخاری کتاب الجهاد و السير باب الدعاء على المشركين بالهزيمة والزلزلۃ حدیث 2931) مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب التغليظ في تفويت صلاة العصر حديث 1420) (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی وقت صلاة العصر حديث 409) تو اس سے یہی استدلال کیا جاتا ہے کہ یہ نماز عصر تھی۔بہر حال جو میں بیان کرنا چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کے ضائع ہونے کی اس قدر تکلیف تھی کہ آپ نے دشمن کو بد دعا دی۔یہاں تو پھر اس کی اہمیت اس مضمون کے تحت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایک وقت کی نماز کا ضائع کرنا بھی آپ کو برداشت نہیں تھا اور آپ نے دشمن کو سخت کہا۔اس بارے میں صحیح بخاری کی ایک روایت ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور کفار قریش کو بُرا بھلا کہنے لگے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے تو عصر کی نماز بھی نہیں ملی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخدا! میں نے بھی نہیں پڑھی۔اس پر ہم اُٹھ کر بطحان کی طرف گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لئے وضو کیا اور ہم نے بھی اس کے لئے وضو کیا اور سورج غروب ہونے کے بعد آپ نے عصر کی نماز پڑھی۔پھر اس کے بعد آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔( صحیح بخاری کتاب مواقيت الصلاة باب من صلى بالناس جماعۃ بعد ذهاب الوقت حدیث 596) علامہ ابن حجر عسقلانی بخاری کی شرح فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ ابن عربی نے اس بات کی تصریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نماز جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکے رکھا گیا تھا وہ صرف ایک نماز تھی یعنی نماز عصر۔اس نماز کی ادائیگی یا تو اس وقت کی گئی تھی جب مغرب کی نماز کا وقت ختم ہو گیا تھا یا یہ ہے کہ سورج کے غروب ہونے کا آخری وقت تھا جب عصر کی نماز ادا کی گئی۔(فتح الباری شرح صحیح بخاری لعلّامه ابن حجر عسقلانی جلد 2 صفحه 88-89 کتاب مواقيت الصلاة باب من صلى بالناس جماعة بعد ذهاب الوقت حديث 596۔قدیمی کتب خانہ کراچی)