خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 566

خطبات مسرور جلد نهم 566 46 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 2011ء بمطابق 18 نبوت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ جمعہ کو میں نے حدیث کی ایک روایت بیان کی تھی کہ جنگ احزاب میں ایک دن ایسا آیا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پانچوں نمازیں دشمن کے لگا تار حملوں کی وجہ سے جمع کر کے پڑھنی پڑیں۔اس پر ہمارے عربی ڈیسک کے ( محمد احمد ) نعیم صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ مجھے بھجوایا جو اس روایت کی نفی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے بعد کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔آپ اس زمانے کے امام ہیں۔بلکہ روایات کے متعلق آپ نے بیان فرمایا کہ میں نے خود رؤیا میں یا کشف کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں یا آپ نے اس کی تصدیق فرمائی۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 10 حصہ اول صفحہ نمبر 262 روایت حضرت مولوی عبد الواحد خان صاحب ضیاء الاسلام پر لیس ربوہ) پس اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جو روایت میں نے بیان کی تھی یہ حدیث کی بعض کتب میں ہے۔لیکن اصل واقعہ اس طرح نہیں تھا اور احادیث کی سب کتب اس پر متفق بھی نہیں ہیں۔جو روایت ہے وہ پانچ نمازوں کی نہیں۔جن حدیثوں میں بھی ہے، پانچ نمازوں کی نہیں بلکہ چار نمازوں کی ہے۔لیکن اس پر بھی اختلاف ہے اور زیادہ معتبر یہی ہے کہ صرف عصر کی نماز ہی مغرب کے ساتھ پڑھی گئی یا تنگی وقت کے ساتھ ادا کی گئی۔اس بارے میں علم کی خاطر بعض روایات بھی پیش کر دیتا ہوں، بعض لوگوں کا شوق بھی ہوتا ہے۔جہاں تک چار نمازوں کے جمع کرنے کا سوال ہے ، یہ سنن ترمذی کی روایت ہے اور وہ حدیث اس طرح ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق کے روز چار نمازوں سے روکے رکھا، یہاں تک کہ جتنا اللہ نے چاہارات کا حصہ چلا گیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو ارشاد فرمایا تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔پھر اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی۔اور پھر اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھائی۔پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔جیسا کہ میں نے کہا یہ سنن ترمذی کی کتاب، کتاب الصلوۃ میں ہے۔(سنن ترمذى كتاب الصلوة باب ما جاء في الرجل تفوته الصلوات بايتهن يبدأحديث 179)