خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 51
خطبات مسرور جلد نهم 51 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء زیادہ مقدم ہے۔اور جب خدا تعالیٰ سے محبت ہو تو اس کے احکام پر عمل بھی سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔پس جب ہم اپنے جائزے لیں تو پھر احساس ہوتا ہے کہ خیر امت ہو نا صرف ایمان لانے کا اعلان کرنا نہیں ہے۔اسی سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہو جاتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں قدم بڑھانے سے خیر امت میں شمار ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نیکیوں کی تلقین کرنی ہو گی اور برائیوں سے دوسروں کو روکنا ہو گا۔پھر ہم خیر امت کہلا سکتے ہیں اور اس صورت میں جب ایک مومن آگے قدم بڑھائے گا تو ایک حقیقی مومن سب سے پہلے یہ دیکھے گا کہ جس بات کی میں نصیحت کرنے جارہا ہوں کیا یہ نیکی مجھ میں ہے ؟ جس برائی سے میں روکنے جارہا ہوں کیا یہ برائی مجھے میں تو نہیں؟ وہ سوچے گا کہ ایک طرف تو ایمان کی وجہ سے میرا اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ ہے اور جن سے محبت کا دعوی ہو اُن کے سامنے تو انسان اپنے تمام حالات کو ویسے ہی ظاہر کر دیتا ہے۔ہر راز کی بات ایک دوسرے کو پتہ لگ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو وہ محبوب ہے جو عالم الغیب والشہادۃ ہے۔اس کو بتانے کی ضرورت نہیں وہ تو مخفی اور ظاہر سب علم رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ایک طرف تم ایمان کا دعویٰ کرتے ہو ، محبت کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف میں جو تمہارے دلوں کو جانتا ہوں، میں نے تو اس میں کھوٹ دیکھا ہے یا میں کھوٹ دیکھ رہا ہوں۔تم جو کہہ رہے ہو وہ کر نہیں رہے۔پس اگر ایک حقیقی مومن کو اللہ تعالیٰ کی اس بات پر یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے ، وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے تو اس کا اندرونی خود حفاظتی کا جو خود کار نظام ہے وہ اُسے راہِ راست پر لے آئے گا بشر طیکہ ایمان ہو۔پس ہم میں سے اگر کسی کا یہ خود حفاظتی کا خود کار نظام مؤثر نہیں تو ہمیں فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ایمان کا وہ معیار نہیں جو ہونا چاہئے۔ہر بدی ہر معاشرتی برائی ہمیں آئینہ دکھا رہی ہوتی ہے۔لیکن یہ آئینہ بھی اس وقت نظر آئے گا جب اللہ تعالیٰ کی محبت کی دل میں تڑپ ہو گی۔اگر یہ احساس نہ ہو ، اللہ تعالیٰ کی محبت غالب نہ ہو اور معاشرے اور دنیا داری کا زیادہ غلبہ ہو تو پھر برائیوں اور اچھائیوں کے معیار بدل جاتے ہیں۔جماعت کی بعض روایات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور خلفاء نے مختلف وقتوں میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کو جماعت میں قائم کیا ہے۔بعض باتوں کو جماعت میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے سختی بھی کی گئی اور کی جاتی ہے۔اس لئے کہ ایک حقیقی مومن کا مقصد زندگی معروف پر عمل کرنا ہے۔نیکیوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔اس کے بغیر نہ ہی وہ نیکیوں کی تلقین کر سکتا ہے اور نہ ہی برائیوں سے روک سکتا ہے۔پس جب زمانے کے امام کے ساتھ اس لئے منسوب ہوئے کہ ہم اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں گے اور خیر امت بنے کی کوشش کریں گے تو پھر دنیا داری تو چھوڑنی پڑتی ہے۔خود ساختہ نیکیوں کے معیار نہیں بن سکتے۔بلکہ نیکیوں کے معیار وہی بنیں گے جو اسلام کی تعلیم کی روشنی میں اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ہدایت پا کر سکھائے ہیں۔اور آپ نے ان کو جماعت میں رائج کرنے کی کوشش فرمائی ہے، تلقین فرمائی ہے۔یہ ایک بہت اہم چیز ہے ، ایک بہت اہم بات ہے جسے ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے۔