خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 50

50 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم والسلام کو بھیجا، مہدی معہود کو بھیجا۔اور آج ہم سب احمدی اس مسیح موعود کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے ہیں، اُس ص کا ہاتھ بٹانے کا دعویٰ کرنے والے ہیں جو ایمان کو ثریا سے زمین پر لایا۔اُس امام سے منسوب ہونے والے ہیں جس نے دین محمدصلی می کنم کو اصل حالت میں دنیا کے کونے کونے میں قائم کرنے کا عہد کیا ہے اور جس کی جماعت نے اس عہد کو پورا کرنا ہے۔ہماری کتنی خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے کونے کونے میں مسیح محمدی کے ذریعے دین اسلام کے پیغام کو پہنچانے کی ذمہ داری خود لی ہے اور ہمیں فرمایا کہ تم بھی اس تقدیر الہی کا حصہ بن جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ ( تذکرہ صفحہ 260 ایڈیشن 2004ء) اور تم اس کے حصہ دار بن کے ثواب کماؤ گے۔ہمیں کس طرح اس الہی تقدیر کا حصہ بننا ہے؟ اپنے اندر وہ انقلاب پیدا کر کے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنادے۔اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کر کے ، اپنے اندر سے ہر قسم کی برائیوں کو دور کر کے ، اپنے قول و فعل میں بیجہتی و ہم آہنگی پیدا کر کے۔اب اس آیت میں جن باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ ایسی باتیں ہیں جو اگر ہم میں موجود ہوں اور اگر ہم ان کی تبلیغ کرنے والے ہوں تو یہ ہر پاک فطرت کی توجہ اپنی طرف کھینچنے والی ہوں گی۔یہ ضروری نہیں کہ ایسی تبلیغ کی جائے جو صرف مذہبی مسائل کے لئے ضروری ہے۔یہ باتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں جو ایک دنیا دار کو بھی اپنی طرف کھینچیں گی چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو بشر طیکہ وہ اخلاقی قدروں کی خواہش رکھتا ہے۔اُس کے اندر ایک پاک فطرت ہے جو اچھے اخلاق کو چاہتی ہے، اچھی باتوں کو چاہتی ہے۔بلکہ لا مذ ہب اور بھی اچھے اخلاق کو اچھا ہی کہیں گے۔اچھی باتوں کو اچھا کہنے والے ہوں گے اور بری باتوں کو برا کہیں گے۔دہریہ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنی اس ذمہ داری کو سمجھو اور دنیا کے فائدے کے لئے ، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نیکیوں کی تلقین کرو اور برائیوں سے روکو۔حقوق العباد ادا کرنے کی طرف توجہ دلاؤ اور حقوق العباد کے غصب کرنے والوں سے بیزاری کا اظہار کر کے ایسا عمل کرنے والوں کو توجہ دلاؤ، اُن کو روکو۔لیکن یہ سب کچھ کرنے سے پہلے ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہو گی۔اپنے اندر کے نظام کو ہم درست کریں گے تو ہماری باتوں کا بھی اثر ہو گا۔اور اپنے اندر کے نظام کو درست کرنے کے لئے ہمیں ہر وقت یہ پیش نظر رکھنا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی میرے ہر قول اور فعل پر نظر ہے، میرے ہر عمل کو وہ دیکھ رہا ہے۔دنیا کو تو میں نے پہلے صرف د نیاوی اخلاق سکھاتے ہوئے نیکی کی تلقین کرنی ہے اور برائی کی پہچان کر واکر اس سے روکنا ہے لیکن میں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت بھی کرنا ہے کہ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ (آل عمران: 111) کہ یہ نصیحت کرنے والے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں اور اللہ پر ایمان اس وقت حقیقی ہو گا جب اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ تعالیٰ کی محبت سب رضاؤں اور محبتوں سے زیادہ شدید ہو گی۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّهِ(البقرة: 166) اور جو لوگ مومن ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔انسان کو جس چیز سے محبت ہوتی ہے اس کا وہ سب سے زیادہ خیال رکھتا ہے۔پس جب ایمان کا دعویٰ ہو تو اللہ تعالیٰ سے محبت بھی سب سے