خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 562
خطبات مسرور جلد نهم 562 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء کہ آپ کا دل ہر وقت خدا تعالیٰ کی یاد میں رہتا تھا۔ذکر الہی سے زبان آپ کی ہر وقت تر رہتی تھی لیکن فرائض ضائع ہونے کا افسوس آپ کی برداشت سے باہر تھا۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کے غلبے کے وعدے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو نبھانے اور اُس کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے عبادتوں کی طرف توجہ بھی ضروری ہے اور بہت ضروری ہے کہ اس کے بغیر اللہ کے رسول کی جماعت میں شامل ہونے والے نہیں کہلا سکتے۔اللہ کے رسول کی جماعت میں وہی شامل ہوں گے جو اپنی عبادتوں کی طرف بھی توجہ دینے والے ہوں گے۔پس جب ہم مخالفین احمدیت کی سختیاں دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا حصہ بننے کے لئے ہمیں اُس کی عبادت سے کبھی غافل نہیں ہونا۔نبی اور رسول تو آتے ہی بندے کا خدا سے تعلق جوڑنے کے لئے ہیں۔اگر ہم اس تعلق کو جوڑنے والے نہیں بنیں گے تو پھر نبی کی جماعت کس طرح کہلائیں گے ؟ اُن فتوحات کا حصہ کس طرح بنیں گے جو نبی اور اُس کی جماعت کے لئے مقدر ہیں۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا بھی مقصد تھا۔پس ہمیں ہمیشہ اس کو سامنے رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب ، کتاب البریہ کے مقدمے میں فرماتے ہیں کہ : ” در حقیقت وہ خدا براز بر دست اور قوی ہے جس کی طرف محبت اور وفا کے ساتھ جھکنے والے ہر گز ضائع نہیں کئے جاتے۔دشمن کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے اُن کو ہلاک کر دوں اور بد اندیش ارادہ کرتا ہے کہ میں ان کو کچل ڈالوں۔مگر خدا کہتا ہے کہ اے نادان! کیا تو میرے ساتھ لڑے گا؟ اور میرے عزیز کو ذلیل کر سکے گا؟ در حقیقت زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہو چکا اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا کیا گیا ہے۔پس ظلم کے منصوبے باندھنے والے سخت نادان ہیں جو اپنے مکر وہ اور قابل شرم منصوبوں کے وقت اس برتر ہستی کو یاد نہیں رکھتے جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔لہذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ ناکام اور شر مندہ رہتے ہیں اور اُن کی بدی سے راستبازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے۔وہ قوی اور قادر خدا اگر چہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے“۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن۔جلد نمبر 13۔صفحہ 19-20) پس اگر ہم محبت اور وفا سے اس قومی اور زبر دست خدا کے آگے جھکے رہے تو دشمن کا کوئی مکر ، کوئی کوشش انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اسی لئے میں نے گزشتہ دنوں دعاؤں اور عبادتوں اور نفلی روزوں کی خاص تحریک کی تھی کہ اب جو دشمن اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ احمدیت پر حملہ کر رہا ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارا سب سے بڑا اور موثر ہتھیار یہ دعائیں ہی ہیں۔احمدیت کی مخالفت اب جو بین الا قوامی شکل اختیار کر چکی ہے یہ جہاں اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے غلبے کے اظہار کے لئے پہلے سے بڑھ کر اپنے جلوے دکھانا