خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 560

560 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دشمنی کرنے والے اور مخالفت میں تمام حدوں کو توڑنے والے یاد رکھیں کہ حق و صداقت کا انکار اور پھر صداقت بھی وہ جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اور جو قرآنِ کریم میں بھی موجود ہے جس کو بڑے شوق سے یہ پڑھتے ہیں یا پڑھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس صداقت کا انکار کر کے وہ انہی لوگوں میں شامل ہو رہے ہیں جنہوں نے اپنے بد انجام دیکھے یا جن کے بد انجام آنے والی قوموں نے دیکھے یا آنے والی قوموں کے لئے عبرت کا نشان بنے اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ کونسا گناہ ہے جو آجکل یہ نہیں کر رہے۔علاوہ اس کے جو احمدیوں پر ظلم ہو رہا ہے ہر قسم کا گناہ ملک میں پھیلا ہوا ہے۔رشوت ہے، دوسرے ہر قسم کے گناہ ہیں، گند ہے، غلاظت ہے ، اخلاقی برائیاں ہیں، چوری ہے ، ڈا کے ہیں، قتل و غارت ہے۔غرض ہر قسم کی جو برائی ہے آج ہمیں نظر آتی ہے۔پس کیا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے والا نہیں۔کچھ تو سوچو غافلو! ہماری تو یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قوم پر رحم فرمائے۔آج احمد ی ہی ہیں جن کا یہ فرض بنتا ہے کہ باوجود تمام تر ظلموں کے سہنے کے پھر بھی اُمت کی ہمدردی کے ناطے، انسانیت کی ہمدردی کے ناطے جہاں عملی کوشش ہو سکتی ہے وہاں عملی کوشش کریں اور ساتھ ہی سب سے بڑھ کر دعاؤں پر زور دیں اور جہاں عملی کوشش نہیں ہو سکتی، جہاں ہماری بات سننے کو کوئی تیار نہیں، جہاں سلام کہہ دینے سے ہی مقدمے قائم ہو جاتے ہیں، وہاں دعاؤں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے امت کی اصلاح کے لئے بھیک مانگیں۔جیسا کہ میں نے کہا اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فتح اور غلبہ عطا فرمانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے انبیاء کو ، اپنے بھیجے ہوؤں کو غلبہ عطا فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ اَنَا وَرُسُلِى إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزُ (المجادلة: 22) کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔اللہ یقینا طاقتور اور غالب ہے۔جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے کہ یہ غلبے کا فیصلہ خدا کا ہے۔اور غلبے کا جو ذریعہ خدا تعالیٰ نے بتایا ہے یا جو غلبے کی دلیل دی ہے وہ خدا تعالیٰ کا طاقتور اور غالب ہونا ہے۔پس اس بات میں مومنوں اور منکرین اور کافروں دونوں فریق کے لئے سبق ہے اور اعلان ہے کہ اس پر غور کرو۔مومنوں کو بتادیا کہ جب اللہ تعالیٰ جو تمام طاقتوں کا مالک ہے اور غالب ہے اُس نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اُس نے اور اُس کے رسول نے غالب آنا ہے تو پھر تم اپنی کمزوری اور عددی کمی کو نہ دیکھو۔یہ نہ سمجھو کہ ہماری کوئی حیثیت نہیں۔اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو۔اللہ تعالیٰ سے لو لگاؤ۔اس کو لگانے کے لئے ، اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے جو کر سکتے ہو وہ کرو اور اس کی انتہا تک پہنچو۔تمہیں تو انگلی لگا کر غلبہ میں شامل کیا جارہا ہے۔پس تم نیکیوں کو بجالاؤ۔عبادات میں طاق ہو جو تمہارا مقصد پیدائش ہے۔اُس میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اور غلبے کا حصہ بن جاؤ۔اور مخالفین کو یہ چیلنج ہے کہ تم اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ زور لگالو لیکن یادر کھو کہ خدا تعالیٰ قوی اور عزیز ہے۔اُس کا یہ فیصلہ ہے کہ اُس نے اپنے پیارے کو فتح دینی ہے، غلبہ دینا