خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 559
559 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میں احمدیوں پر مقد مے قائم کر کے ایسے عمل کے مرتکب ہو رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں یقینانا پسندیدہ ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ تم دشمن سے بھی عدل سے کام لو۔اُن لوگوں سے بھی انصاف کرو اور ظلم نہ کرو جنہوں نے تم پر ظلم کیا ہے۔لیکن اس کے بر عکس ان لوگوں کے عمل کیا ہیں ؟ بالکل ہی الٹ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جھوٹ شرک ہے اور شرک ایک ایسی نجس چیز ہے اور گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ نہیں بخشا۔لیکن ان کی اپنی حالت کیا ہے۔ان کے تقویٰ اور نیکی اور اللہ اور رسول کے نام کو اونچا کرنے کی حقیقت ہم احمدی تو روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ایک واقعہ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس سے ان کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔گزشتہ دنوں ایک احمدی پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا۔قتل کے مقدمے میں اُس کو ملوث کیا گیا۔جب ان کو بتایا گیا، سمجھایا گیا کہ یہ غلط ہے۔تم یہ کیا ظلم اور زیادتی کر رہے ہو۔تو انہوں نے ، مدعیان نے جنہوں نے مولویوں کے زیر اثر مقدمہ قائم کیا تھا کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ غلط ہے اور یہ بے قصور ہے، معصوم ہے لیکن یہ احمد ی ہے اس لئے ہم نے یہ مقدمہ قائم کیا ہے۔اگر آج یہ احمدیت سے تائب ہو جائے، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دے تو ہم مقدمہ واپس لے لیتے ہیں بلکہ جیل سے چھڑانے میں ہر طرح کوشش کریں گے۔باہر آئے تو اس کو ہار پہنائیں گے۔استقبال کریں گے۔تو یہ ان لوگوں کی حالت ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ پکے مسلمان کہلانے والے ہیں اور احمدی کا فر ہیں۔جھوٹ کی ان کے نزدیک کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔پس اے مخالفین احمدیت! اس خدا سے ڈرو جس کے سامنے تمہاری دولت، تمہارے گھمنڈ ، تکبر، تمہاری مساجد کی امامت، تمہاری سیاسی پارٹیاں، تمہاری حکومت، تمہاری عددی اکثریت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہمارا ان تمام ظلموں کے جواب میں وہی جواب ہے جو قرآنِ کریم نے ان آیات میں دیا ہے کہ انہ قومی شَدِيدُ الْعِقَابِ کہ یقینا وہ بہت طاقتور اور سزا دینے میں سخت ہے۔ظلم کی یہ انتہا اب اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ سکولوں کے احمدی معصوم بچوں کو کہا جاتا ہے کہ تم مرزائی کا فر ہو اس لئے سکول میں نہیں رہ سکتے۔ہاں سکول میں پڑھنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو گالیاں دو۔اگر سکول کا کوئی ہیڈ ماسٹر یا کسی پرائیویٹ سکول کا مالک کچھ شرافت دکھانے والا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اگر احمدی بچے اس سکول میں پڑھیں گے تو ہم اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے اور تمہارے خلاف احتجاج کریں گے اور تمہارا سکول بند کروائیں گے۔اگر کوئی شرفاء ان مولویوں اور فسادیوں کی بات نہیں مانتے تو ان کو بھی نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔غرض کہ ایک فساد ہے جو ملک میں برپا ہے اور انتظامیہ ، سیاستدان اپنے سیاسی مقاصد اور نا اہلی کی وجہ سے ان مولویوں اور شدت پسندوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا چاہے مولوی ہوں یا مفاد پرست سیاستدان ہوں یا کوئی بھی حکومتی اہلکار ہو ، جو بھی اس ظلم میں شریک ہے وہ یادر کھے کہ اللہ تعالیٰ شَدِيدُ الْعِقَابِ ہے۔یہ مضمون کوئی سابقہ قوموں کا قصہ نہیں ہے بلکہ زندہ خدا کے زندہ ہونے اور سب طاقتوں کے مالک ہونے کی آج بھی نشانی ہے۔