خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 555 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 555

خطبات مسرور جلد نهم 555 45 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 11 نومبر 2011ء بمطابق 11 نبوت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: احمدیوں پر خاص طور پر پاکستان میں سختیاں تو اُس وقت سے روار کھی جارہی ہیں یا ان پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جب سے کہ احمدیوں کو اسمبلی نے 1974ء میں غیر مسلم قرار دینے کے لئے قانون پاس کیا تھا اور پھر جنرل ضیاء الحق نے اپنی آمریت کا بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس قانون کو یہ کہتے ہوئے مزید سخت کیا کہ یہ احمدی ( وہ احمدی تو نہیں کہتے، قادیانی یا مرزائی کہتے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے، جن کے خلاف ہم نے قانون پاس کیا، انہیں اپنے زعم میں اپنے میں سے ، امت مسلمہ میں سے باہر نکالا۔انہیں کہا کہ تم اپنے آپ کو غیر مسلم کہو۔انہیں کہا کہ تم نے کلمہ نہیں پڑھنا۔انہیں کہا کہ تم نے کسی کو السلام علیکم نہیں کہنا۔انہیں کہا کہ تم نے کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی جس سے معمولی سا بھی اس بات کا اظہار ہو کہ تم مسلمان ہو لیکن تم پھر بھی ان تمام چیزوں سے باز نہیں آرہے۔تم پھر وہی باتیں اور عمل کر رہے ہو جو ایک بچے اور پکے مسلمان میں ہونی چاہئیں۔اس لئے ہم تمہیں یا تو قید و بند کی سزا دیں گے یا تمہیں اس آرڈینس کی نافرمانی میں اپنے آپ کو حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کی وجہ سے تختہ دار پر لٹکائیں گے ، تمہیں پھانسی دیں گے۔تم میں اتنی ہمت کہ اتنی تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اکثریت کے دلوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر زخمی کرو۔پس یہ خلاصہ ہے پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ سلوک اور قانون کا۔احمدیوں کے متعلق یہ جو کچھ کہتے رہے اور احمدی اقلیت کا جو نعرہ لگا کر یہ احمدیوں کو اپنے ایمان سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہے اور کر رہے ہیں یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔مذاہب کی تاریخ میں یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ہر زمانے کے فرعون نے اپنے وقت کے انبیاء اور اللہ والوں کو یہی کچھ کہا ہے۔قرآنِ کریم کا یہ مضمون آج بھی جاری ہے جس میں فرعون نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ إِنَّ هَؤُلاء لَشِرْدِ مَةٌ قَلِيدُونَ وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَابِظُونَ (الشعراء:56،55) کہ یقینا یہ لوگ ایک کم تعداد حقیر جماعت ہیں اور اس کے باوجود یہ ضرور ہمیں طیش دلا کر رہتے ہیں۔پس ہم احمدی تو جب اس مخالفت کو دیکھتے ہیں تو ایمان تازہ ہوتا ہے کہ انبیاء کی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔