خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 554
554 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم الفضل کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔اس طرح مجموعی طور پر 43 سال تک الفضل قادیان، لاہور اور ربوہ کے ادارے سے وابستہ رہے۔46ء میں قائمقام وکیل انتبشیر کے طور پر قادیان میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔47ء کے پُر آشوب حالات میں اُس وقت کے ناظر امورِ خارجہ کے ساتھ اسٹنٹ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔پھر 1950ء سے 1953ء کے پُر آشوب دور میں آپ نے رپورٹنگ کے حوالے سے بہت خدمات انجام دیں۔1960ء سے 73ء تک ماہنامہ انصار اللہ جو انصار اللہ پاکستان کا رسالہ ہے اُس کے ایڈیٹر بھی رہے۔74ء میں بھی صحافتی ذمہ داریاں بڑی خوش اسلوبی سے نبھائیں۔75ء 76ء اور 80ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے یورپ، امریکہ ، کینیڈا اور مغربی افریقہ کے دوروں پر آپ کے ساتھ جانے کی توفیق ملی۔82ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے ساتھ مسجد بشارت سپین کے افتتاح کے موقع پر گئے۔89ء میں خلیفہ المسیح الرابع کی ہدایت پر جماعت احمد یہ جرمنی میں قضا کا نظام قائم کرنے کی توفیق ملی اور حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی جو کتاب تھی Murder in the name of Allah اُس کے جو باب حضور رحمہ اللہ نے انگریزی میں لکھے تھے ان کا اردو ترجمہ آپ نے کیا۔اسی طرح ، Christianity-A Journey from facts to fiction کا اردو میں ترجمہ کیا۔دو تین اپنی کتابیں بھی جن میں سے ایک سفر حیات ہے۔ان کے بچے عرفان احمد خان صاحب اور عثمان خان صاحب جرمنی میں ہیں اور ڈاکٹر عمران خالد ربوہ میں ہیں۔بڑے نیک سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ہر سال جر منی جلسہ پر آیا کرتے تھے۔یہاں بھی آیا کرتے تھے۔ابھی جب دوبارہ میں گیا ہوں تو ان کی طبیعت بڑی خراب تھی، بیمار تھے ، ہسپتال میں تھے لیکن جب میرے آنے کا سنا تو یہی فکر تھی کہ ہسپتال سے میں جلدی فارغ ہوں اور جا کے مسجد میں پیچھے نمازیں پڑھنے کا موقع ملے۔اور پھر بہر حال آئے اور جمعہ والے دن جمعہ بھی پڑھا۔عموماً جمعہ کے بعد یا کسی بھی نماز کے بعد میں مسجد میں نہیں ملا کر تا لیکن اُس دن مجھے بڑا خیال آیا کہ ان سے ملوں۔چنانچہ جمعہ کے بعد ان سے وہیں آخری ملاقات ہوئی۔اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔لکھیں الفضل انٹر نیشنل مورخہ 25 نومبر تاکیم دسمبر 2011 ء جلد 18 شماره 47 صفحہ 5 تا 8)