خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 49

49 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کوشش کی تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکیں اور اس میں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب بھی ہوئے ، اس زمانے میں ہم احمدیوں کا فرض ہے جو قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی علی کم پر کامل اور مضبوط ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔جنہوں نے اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کرنے کے لئے اور قرآنی احکامات کو اپنے پر لاگو کرنے کے لئے زمانے کے امام مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے کہ ہم اپنے جائزے لیں کہ ہم کس حد تک خیر امت ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں۔ہم کس حد تک انسانوں کے فائدے کے لئے ان کا درد دل میں رکھنے کا حق ادا کر رہے ہیں۔ہم کس حد تک اپنے قول کے ساتھ ساتھ اپنے عمل سے نیک باتوں کی تلقین کر رہے ہیں۔ہم کس حد تک اپنے عمل اور نصائح سے دنیا کو برائیوں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ جائزے ہم اپنی طرف سے کسی قسم کا خود ساختہ معیار بنا کر نہیں لے سکتے۔یہ جائزے ہمیں اس معیار کو سامنے رکھتے ہوئے لینے ہوں گے جو آنحضرت صلی علی ایم نے ہمارے سامنے مقرر فرمایا۔اس کا میں آگے جا کے ذکر کروں گا۔اور جب تک ہم یہ جائزے لیتے ہوئے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے ہم ترقی کے راستے پر گامزن رہیں گے ، انشاء اللہ۔قوموں کا زوال ہمیشہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ خود ساختہ معیاروں کو سامنے رکھتے ہیں، جب وہ ہوا و ہوس میں گرفتار ہو جاتے ہیں، جب وہ بنیادی مقصد کو بھول جاتے ہیں۔قرآنِ کریم نے گزشتہ انبیاء کا ذکر کر کے ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ سابقہ قوموں نے جب اپنی تعلیم کو بھلا دیا، جب اپنے مقصد سے روگردانی کرنی شروع کر دی تو پھر یا تو وہ تباہ ہو گئیں یا اُن میں اتنا بگاڑ پید اہو گیا کہ اصل تعلیم کی جگہ بدعات اور لغویات اُن میں رائج ہو گئیں جو روحانی اور اخلاقی تباہی ہے۔برائیاں ان کی نظر میں اچھائیاں بن گئیں۔پاکیزگی اور حیااُن کی نظر میں فرسودہ تعلیم بن گئی۔مذہب کی خود ساختہ تشریحات ہونے لگیں۔انہوں نے اپنے انبیاء کی تعلیم کو ہی بدل کر رکھ دیا۔انبیاء کی تعلیم کے نام پر غلط اور اپنی مرضی کی تعلیم اُن کتب کا حصہ بنادی گئی جو انبیاء کی طرف منسوب کرتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا تقدس بھی باقی نہیں رہا اور نہ ہی انبیاء کا اور روحانی لحاظ سے وہ مردہ ہو گئیں۔یہی حال آپ دیکھیں آج کل مغرب میں بسنے والی قوموں کا ہے۔اس کے علاوہ اسلام سے پہلے کے اور جتنے بھی مذہب اپنے آپ کو کسی سے منسوب کرتے ہیں اُن کا بھی یہی حال ہے۔مسلمانوں پر خدا تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے اپنے وعدے کے مطابق اس آخری شرعی کتاب کی حفاظت فرمائی۔اور باوجو د اس کے کہ مسلمانوں کی اکثریت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے پہلے کسی نے ان الفاظ میں نقشہ کھینچا کہ ع رہا دین باقی نہ اسلام باقی (مسدس حالی از خواجہ الطاف حسین حالی صفحہ 32 فیروز سنز پر ائیوٹ لمیٹڈ کراچی طبع اول 1988 ء) لیکن ایک طبقہ ہر زمانے میں ایسا پیدا ہو تا رہا جو قرآن کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتارہا، اُس کی حفاظت کرتا رہا اور پھر آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ