خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 541
541 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2011ء یہ کوئی مت خیال کرے کہ میں ایسے خیال سے تباہ ہو جاؤں گا۔یہ خداشناسی کی راہ سے دور لے جانے والا خیال ہے۔خدا تعالیٰ کبھی اس شخص کو جو محض اسی کا ہو جاتا ہے ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ خود اس کا متکفل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کریم ہے جو شخص اس کی راہ میں کچھ کھوتا ہے وہی کچھ پاتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کو پیار کرتا ہے اور انہیں کی اولاد بابرکت ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے حکموں کی تعمیل کرتا ہے۔اور یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا کہ خدا تعالیٰ کا سچا فرماں بردار ہو وہ یا اس کی اولاد تباہ و برباد ہو جاوے۔دنیا ان لوگوں ہی کی برباد ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور دنیا پر جھکتے ہیں۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہر امر کی طناب اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اس کے بغیر کوئی مقدمہ فتح نہیں ہو سکتا۔کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور کسی قسم کی آسائش اور راحت میسر نہیں آسکتی۔دولت ہو سکتی ہے مگر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد یہ بیوی یا بچوں کے ضرور کام آئے گی۔ان باتوں پر غور کرو اور اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرو“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 595۔مطبوعہ ربوہ ) جماعت کو خاص نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : ”پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ، ہمدردی کرو اور بلا تمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيماً وَ استیرا (الدھر: 9) (اور وہ کھانے کو اُس کی چاہت ہوتے ہوئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیر وں کو کھلاتے ہیں۔) ” وہ اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفار ہی ہوتے تھے۔اب دیکھ لو کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہا کیا ہے۔وو میری رائے میں کامل اخلاقی تعلیم بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی“۔( آپ نے جب یہ بیان کیا تو اس وقت آپ کی طبیعت خراب تھی۔فرمایا جب مجھے صحت ہو جاوے تو میں ایک کتاب لکھوں گا جو اخلاق کے بارے میں ہو گی۔بہر حال پھر آگے آپ فرماتے ہیں کہ ”میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میر امنشاء ہے وہ ظاہر ہو جاوے اور وہ میری جماعت کے لیے ایک کامل تعلیم ہو اور ابتغاء مرضات اللہ کی را ہیں اس میں دکھائی جائیں۔مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں آئے دن یہ دیکھتا اور سنتا ہوں کہ کسی سے یہ سرزد ہوا اور کسی سے وہ۔میری طبیعت ان باتوں سے خوش نہیں ہوتی۔میں جماعت کو ابھی اس بچہ کی طرح پاتا ہوں جو دو قدم اُٹھاتا ہے تو چار قدم گرتا ہے۔لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو کامل کر دے گا۔اس لیے تم بھی کوشش، تدبیر ، مجاہدہ اور دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ بنتا ہی نہیں۔جب اس کا فضل ہوتا ہے تو وہ ساری راہیں کھول دیتا ہے“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 219۔مطبوعہ ربوہ ) بعض لحاظ سے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور توجہ سے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے پورا فرمایا، آپ نے اپنے صحابہ کے پاک نمونے دیکھے اور اس زمانے میں بھی خدا تعالیٰ پورا فرما رہا ہے۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض لحاظ سے بالغ ہو چکی ہے لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ بعض برائیاں بھی جڑ پکڑ رہی ہیں۔تکبر ، نفس کی انائیں وغیرہ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے بعض جگہ بہت