خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 539
539 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بھی ہیں ، ہمارے داعیان بھی ہیں، اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، بڑی بڑی خدمات کر رہے ہیں لیکن بعض دفعہ ایسے معاملات آتے ہیں جو جب ذاتیات پر آتے ہیں تو پھر بھول جاتے ہیں۔پھر بعض دفعہ تکبر سامنے آجاتا ہے۔اپنی انا ئیں سامنے آجاتی ہیں۔فرمایا کہ تم جو بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو) ”سو یہ وعظ تمہارا کب صحیح ہو سکتا ہے اگر تم اس چند روزہ دنیا میں ان کی بدخواہی کرو جب اپنے معاملات آجائیں تو پھر وہاں خیر خواہی نہ ہو بلکہ بدخواہی سامنے آجائے) ”خدا تعالیٰ کے فرائض کو دلی خوف سے بجالاؤ کہ تم ان سے پوچھے جاؤ گے “( اللہ تعالیٰ نے جو فرائض عائد کئے ہیں اُن کے بارے میں پوچھا جائے گا۔اس کے لئے دل میں ایک خوف پیدا کرو۔) فرمایا: ” نمازوں میں بہت دعا کرو کہ تا خدا تمہیں اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے کیونکہ انسان کمزور ہے۔ہر ایک بدی جو ڈور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دور ہوتی ہے اور جب تک انسان خدا سے قوت نہ پاوے کسی بدی کے دُور کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلاؤ بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اُس کے احکام ہر ایک پہلو کے رو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائیں“۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 63) آج کل ہر احمدی کو تو خاص طور پر یہ حالت اپنے اوپر طاری کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم زیادہ سے زیادہ سمیٹنے والے بنیں۔فرمایا: ”اے میری عزیز جماعت! یقینا سمجھو کہ زمانہ اپنے آخر کو پہنچ گیا ہے اور ایک صریح انقلاب نمودار ہو گیا ہے سو اپنی جانوں کو دھو کہ مت دو اور بہت جلد راستبازی میں کامل ہو جاؤ“۔( یہ بہت اہم بات ہے۔سچائی کو اختیار کرو۔سچائی اللہ تعالیٰ کے تعلق میں ہے۔عبادات میں خالص ہو کر عبادات کرنا ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔اللہ تعالیٰ کے دو ہی اہم حکم ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد ، ان میں راستبازی اور سچائی ہونی چاہئے۔جماعتی خدمات ہیں ، آپس کے تعلقات ہیں، ان میں راستبازی اور سچائی ہونی چاہیئے۔) پھر فرمایا: ” قرآنِ کریم کو اپنا پیشوا پکڑو اور ہر ایک بات میں اس سے روشنی حاصل کرو۔اور حدیثوں کو بھی رڈی کی طرح مت پھینکو کہ وہ بڑی کام کی ہیں اور بڑی محنت سے اُن کا ذخیرہ طیار ہوا ہے۔لیکن جب قرآن کے قصوں سے حدیث کا کوئی قصہ مخالف ہو تو ایسی حدیث کو چھوڑ دو تا گمراہی میں نہ پڑو۔قرآنِ شریف کو بڑی حفاظت سے خدا تعالیٰ نے تمہارے تک پہنچایا ہے سو تم اس پاک کلام کی قدر کرو۔اس پر کسی چیز کو مقدم نہ سمجھو کہ تمام راست روی اور راست بازی اسی پر موقوف ہے“۔(سچائی اور سچائی پر چلنا، عمل کرنا قرآن شریف کی تعلیم پر ہی موقوف ہے) کسی شخص کی باتیں لوگوں کے دلوں میں اُسی حد تک مؤثر ہوتی ہیں جس حد تک اُس شخص کی معرفت اور تقویٰ پر لوگوں کو یقین ہوتا ہے“۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64) پس معرفت اور تقویٰ جب بڑھے گا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری باتوں کا اثر بھی ہو گا۔