خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 531
531 خطبات مسرور جلد نهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2011ء کو میں نے بتایا کہ ہیومن رائٹس کیا چیز ہیں اور کچھ سوال بھی اُن سے میں نے پوچھے۔کچھ دیر بعد مجھے کہنے لگے کہ جیسا سوال تم پوچھ رہے ہو اس کی تو میں تیاری کر کے نہیں آیا۔اس کے بعد میں نے بتایا کہ کس طرح اصل امن دنیا میں قائم کر سکتے ہیں۔قرآنی تعلیم کیا ہے اور آپ لوگ یعنی بعض مغربی ممالک کیا کر رہے ہیں۔اس کے بعد باہر جا کے ہمارے جو دو احمد کی دوست لے کے آئے تھے ، اُن سے کہتے ہیں کہ اس نے تو مجھے سوچنے کے بعض نئے زاویے دیئے ہیں۔ہماری تو ایک سوچ ہوتی ہے۔اب ان زاویوں پر میں سوچوں گا تاکہ ہمیں پتہ لگے کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے کیا طریقے اختیار کرنے چاہئیں اور ان سے باہر آنا چاہئے جو ہم کر رہے ہیں۔ان کو بھی میں نے کھل کر کہا تھا کہ ایک طرف وہی طاقتیں ہیں جو امن کا نعرہ لگاتی ہیں اور دوسری طرف وہی طاقتیں ہیں جو لڑنے والوں کو اسلحہ بھی دے رہی ہوتی ہیں۔اس طرح تو امن قائم نہیں ہو سکتا۔پھر امن کے نام پر تم لوگ ظلم کرتے چلے جاتے ہو۔لیبیا وغیرہ کی مثالیں سامنے ہیں۔بہر حال کچھ نہ کچھ اُن کو سمجھ آگئی تھی اور میں نے کہا کہ قرآنِ کریم کی تعلیم تو یہ ہے کہ جب امن قائم کر جاؤ تو پھر واپس لوٹ آؤ۔پھر بدلے اور ذاتی آنائیں اور ذاتی مفادات کی طرف توجہ نہ دو۔تو یہ قرآنِ کریم کی خوبصورت تعلیم ہے جس پر تم عمل کرو گے تو دنیا کا امن قائم ہو سکتا ہے۔نہیں تو نہیں۔بہر حال ان کو کچھ نہ کچھ سمجھ آئی۔انہوں نے کہا کہ میں سوچوں گا بھی اور اپنے حلقے میں بھی یہ باتیں پہنچاؤں گا۔یہاں سے ایک دن ہم ڈنمارک کا ایک شہر ہے ناکسکو، وہاں بھی گئے تھے۔وہاں ہمارے البانین اور بوسنین لوگوں کی جماعت ہے۔تقریباً سو کے قریب افراد ہیں۔یہاں کوئی پاکستانی نہیں ہے۔میرے خیال میں تو ان کی خواہش بھی تھی کہ میں وہاں آؤں۔بڑا اخلاص رکھنے والی جماعت ہے۔اس کا فائدہ بھی ہوا۔اُن کے بعض تربیتی مسائل تھے اُن کا پتہ چلا۔بعض گھرانے تو اخلاص و وفا میں اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔کبھی پہلے ملے نہیں، دیکھا نہیں۔بچوں سے لے کر بڑوں تک سب سے ملاقاتیں بھی ہوئیں تو وہاں جانے کا بہت فائدہ ہوا۔ایک رات وہاں گزاری بھی۔ایک سینٹر ہے جو جماعت نے کچھ عرصہ ہو اوہاں لیا ہے جہاں اب باجماعت نماز اور جمعہ وغیرہ ہوتا ہے۔اس کو فی الحال تو مسجد کی شکل دی ہے لیکن وہاں کے میٹر کا نمائندہ جو ڈپٹی میئر تھے اور کچھ اور پڑھے لکھے لوگ ملاقات کے لئے آئے تھے تو وہاں میں نے کہا کہ اگر ہمیں باقاعدہ مسجد کے لئے جگہ مل جائے تو ہم مسجد بنائیں گے۔اس پر انہوں نے وعدہ تو کیا ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ جگہ نہ ملے۔ہم انشاء اللہ تعالیٰ مسجد بنائیں گے کیونکہ ہمیں اب پتہ لگ گیا ہے کہ جماعت ایک پر امن جماعت ہے۔یہی شہر جس میں چند مہینے پہلے جو سینٹر بنایا گیا یا مسجد کی شکل دی گئی ہے تو اس میں آکے وہاں کے مقامی لوگوں نے جو اسلام کے خلاف ہیں کچھ پینٹ وغیرہ کئے ، کچھ گند وغیرہ پھینکا لیکن بہر حال مقامی انتظامیہ اور پولیس نے کافی ساتھ دیا۔دشمنی تو وہاں ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کا جو پیغام ہے ، اسلام کا جو پیغام ہے وہ پہنچ رہا ہے اور پڑھے لکھے طبقہ کو احساس پیدا ہو رہا ہے کہ احمدیت اسلام کی وہ تصویر پیش کرتی ہے جو حقیقی اسلام ہے اور پُر امن اسلام ہے اور اس کا بڑا فائدہ ہوتا ہے اور