خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 526
526 خطبات مسرور جلد نهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2011ء تھی۔پھر اُن کو کہا گیا کہ اپنے وسائل سے یہ مسجد بنائیں۔2003ء میں میں نے بھی ان کو توجہ دلائی۔اُس وقت سے توجہ دلانی شروع کی لیکن ناروے کی جماعت اپنی جگہ سے ہلتی نہیں تھی۔کبھی یہ مسئلہ آجاتا تھا، کبھی دوسرا مسئلہ آجاتا تھا۔مجھے بھی انہوں نے اتنا تنگ کیا کہ میں نے ان کو کہہ دیا کہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں اس سے کریں۔اگر بڑی مسجد نہیں بن سکتی تو ایک چھوٹی سی مسجد کہیں اور جاکے ، چھوٹی جگہ لے کے ، بنالیں۔پھر جماعت خود بھی ایک وقت میں سوچنے لگ گئی کہ اس پلاٹ کو بیچ دیا جائے۔کچھ نے رائے دی کہ نہیں بیچنا چاہئے۔بہر حال پھر آخر فیصلہ ہوا کہ بڑا با موقع پلاٹ ہے، شہر سے جو سڑک ائیر پورٹ کو جاتی ہے اُس پر واقعہ ہے، اونچی جگہ ہے، اس لئے اس کو بیچنا نہیں چاہئے۔2005ء میں جب میں گیا تو اتفاق سے وہاں جو جمعہ پڑھا گیا، اس کے لئے جو ہاں وہاں لیا گیا وہ بھی اس پلاٹ کے بالکل ساتھ تھا۔تو میں نے انہیں اُس خطبہ میں وہاں توجہ دلائی تھی کہ انشاء اللہ ناروے میں مسجدیں تو بنیں گی، ایک دو نہیں بلکہ اس ملک میں ہر جگہ مساجد بنیں گی، یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ اس نے جماعت کو پھیلانا ہے لیکن آپ کی آئندہ نسلیں جب یہاں سے گزرا کریں گی تو یہ کہا کریں گی کہ یہ جگہ ، ایک باموقع پلاٹ، ایک خوبصورت جگہ ایک زمانے میں ہمارے باپ دادا کو ملی تھی جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا۔کچھ خوف خدا کریں۔جو عزم کیا ہے ، جو ارادہ کیا ہے ، اس کو ایک دفعہ پورا کرنے کی کوشش کریں۔بہر حال کم و بیش انہی الفاظ میں توجہ دلائی تھی کہ اپنی نسلوں کے سامنے نیک نمونے قائم کریں، اور اُن کی دعاؤں کے بھی وارث بنیں۔بہر حال یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی خوبصورتی ہے کہ وہ خلیفہ وقت کی طرف سے کہی گئی باتوں کو سنتے ہیں اور پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک جوش اور ولولہ اُن میں پیدا ہو جاتا ہے تبھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ جماعت کے اخلاص و وفا کو دیکھ کر ہمیں بھی بعض دفعہ حیرت ہوتی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحه 605 مطبوعه ربوہ) بہر حال جب ناروے جماعت نے ارادہ کیا اور اس توجہ دلانے پر اُن کی آنکھیں کھلیں تو انہوں نے قربانیوں کی مثالیں بھی قائم کیں جن کا اپنا ایک لمباذکر ہے۔پچھلے ناروے کے خطبے میں کچھ میں نے بیان بھی کیا تھا اور تقریباً سو ملین کرونر سے زیادہ کی قربانی دے کر اس مسجد کی تکمیل ہوئی ہے۔کرونر میں بعض دفعہ بعضوں کے علم میں حوالے یار یفرنس نہیں ہوتے تو یہ تقریباً بارہ ملین پاؤنڈ بنتا ہے۔بارہ لاکھ نہیں، بارہ ملین پاؤنڈ بلکہ اس سے اوپر رقم بنتی ہے۔اور یہ لوگ جیسا کہ میں نے کہا کوئی غیر معمولی امیر لوگ نہیں ہیں لیکن جب ان کو توجہ دلائی گئی اور ان کو یہ باور کروایا گیا کہ آئندہ نسلوں کے لئے کیا نمونہ چھوڑ کر جانے لگے ہو تو صرف وقتی جذ بہ نہیں، انہیں وقتی غیرت نہیں آئی بلکہ وہ نیکی کی رگ اُبھری جو ایک احمدی میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔اگر وقتی جوش ہو تا تو ایک سال کے بعد تھک کر بیٹھ جاتے۔گو ایسے موقعے آئے کہ انتظامیہ نے پریشان ہو کر پھر مجھے لکھنا شروع کر دیا لیکن توجہ دلانے پر پھر بجت جاتے تھے۔آخر پانچ سال یا چھ سال کی قربانی کے بعد وہاں صرف آٹھ نو سو افراد کی جو جماعت ہے ، انہوں نے یہ سب سے بڑی مسجد بنالی۔ائیر پورٹ سے شہر کو جاتے ہوئے جیسا کہ میں نے کہا یہ ایک