خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 525
525 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہم اب ان نصائح پر عمل کریں گے۔دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔موبائل فون رکھنے کی اور اس قسم کی باتیں جو بچوں میں پیدا ہو رہی ہیں ان کی میں نے بعض مثالیں بھی پیش کی تھیں۔ٹی وی یا انٹر نیٹ پر مستقل جو بیٹھے رہتے تھے بلکہ مستقل چھٹے رہتے ہیں انہوں نے اس سے پر ہیز کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اصل چیز اعتدال ہے۔ہمارے بچوں اور بڑوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہر جائز کام بھی اعتدال کے اندر رہتے ہوئے کرنا ہے۔اور غلط اور ناجائز کے تو قریب بھی نہیں جانا۔پس یہ روح اگر ہمارے بچوں اور نوجوانوں میں پیدا ہو جائے تو ان بچوں اور نوجوانوں کا مستقبل بھی محفوظ ہو جائے گا اور جماعت کی مجموعی تربیت میں بھی اس سے ترقی ہوتی ہے۔اسی طرح خدام الاحمدیہ نے بھی میری باتیں سُن کر جس طرح مثبت رد عمل دکھایا ہے اللہ تعالیٰ ان کو اس پر مستقلاً عمل کرنے کی بھی توفیق دے اور ان کو جزا دے کہ فوری طور پر بات سن کر پھر لبیک بھی کہتے ہیں۔لجنہ میں بھی بڑا اچھا پروگرام ہوا۔اس کا ذکر بھی پہلے میں کر چکا ہوں۔لیکن ایک بات کی طرف لجنہ کو بلکہ ساری دنیا کی لجنہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میرے اس خطبے کے حوالے سے ایک خاتون نے لکھا کہ مین ہال میں تو بڑا اچھا ماحول تھا۔خاموشی سے آپ کا خطاب سنا گیا لیکن جو بچوں کا ہال تھا اُس میں بچوں کا شور تو جو ہو تا ہے وہ تھوڑا بہت ہوتا ہی ہے۔مائیں خود اس حوالے سے کہ دُور بیٹھی ہیں بے تحاشہ باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔تو لجنہ میں جو علیحدہ مار کی یا علیحدہ ہال ایسی عورتوں کو دیا جاتا ہے جن کے بچے ہیں اُن کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بچوں کو حتی الوسع اشارے سے خاموش کرانے کی کوشش کریں اور خود تقریر کی طرف توجہ دیا کریں۔جو پروگرام ہو رہا ہے اس کی طرف توجہ دیا کریں اور سنا کریں۔یہ ہال اُن کو اس لئے نہیں دیا جاتا ہے کہ خود بیٹھ کے اپنی کہیں اور اپنی کہانیاں شروع کر دیں۔آئندہ سے اس بارے میں بھی احتیاط ہونی چاہئے اور انتظامیہ کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔فرینکفرٹ میں دوسرے جماعتی پروگرام بھی ہوتے رہے ہیں جیسا کہ میں نے کہا ر پورٹ میں ان کا ذکر آ جائے گا۔بہر حال یہ قیام وہاں قریب دو ہفتے کا تھا۔اس کے بعد وہاں سے ناروے روانگی ہوئی۔جیسا کہ آپ لوگوں نے خطبے میں سن لیا ہے کہ ناروے میں مسجد نصر کا افتتاح ہوا۔ماشاء اللہ بہت خوبصورت مسجد ہے۔یہاں سے بھی بعض لوگ گئے ہوئے تھے انہوں نے دیکھی ہے۔بہت بڑی ہے اور صرف شمالی یورپ کی بہت بڑی مسجد نہیں ہے بلکہ میر اخیال ہے کہ مسجد بیت الفتوح کے بعد ( خیال نہیں بلکہ یقین ہے ) یقینا یہ مسجد یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہے۔وہاں کی جماعت تو بہت چھوٹی ہے لیکن اس مسجد کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بہت بڑی جماعت ہے یا یہ بہت امراء کی جماعت ہے لیکن دونوں باتیں غلط ہیں۔نہ یہ بڑی جماعت ہے نہ وہاں امیر لوگ زیادہ ہیں۔صرف خیال آنے اور احساس پیدا ہونے کی ضرورت تھی۔وہ جب آیا تو توجہ پیدا ہوئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے زمانے میں اس مسجد کی یہ زمین خریدی گئی تھی اور اُس پر ایک ہال تقریباً بیسمنٹ کی طرز پر بنایا گیا تھا۔شاید اُس وقت مسجد کی بیسمنٹ (Basement) بنوانا چاہتے تھے۔بہر حال بعد میں کچھ نقشہ بھی تبدیل ہوا۔مرکز نے اُس وقت تین چار ملین کرونر یا تقریب چار پانچ لاکھ پاؤنڈ اُن کی مدد کی