خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 524
524 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم لگے کہ میں نے سنا ہے ( یہ دیکھیں جہالت کا جو تصور ہے یہ صرف پرانا نہیں ہے بلکہ آج اس پڑھے لکھے زمانے میں اور یورپ میں بھی یہ تصور قائم ہے ) کہ غیر مسلم کو قرآنِ کریم کا پڑھنا یا دیکھنا اسلام میں جرم ہے۔میں نے کہا آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ ابھی آپ نے تلاوت سنی، اس کا ترجمہ سنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام دنیا کے لئے آئے تھے ، تمام انسانوں کے لئے آئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ اعلان کروایا اور قرآنِ کریم تو ہر سعید فطرت کے لئے رحمت اور علاج ہے۔اس لئے بالکل غلط آپ نے سنا ہے۔بلکہ ہمارے ترجمے چھپے ہوئے ہیں۔آپ کو دیئے جائیں گے آپ پڑھیں۔یہ ہے تصور قرآنِ کریم کی تعلیم کا جو بعض مسلمان حلقوں کی طرف سے آج بھی بعض جگہوں پر پیش کیا جاتا ہے اور احمدی جو قرآنِ کریم کی اشاعت کے لئے کوشش کر رہے ہیں اس میں روکیں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ضمناً میں ذکر کر دوں کہ گزشتہ دنوں انڈیا میں، دہلی میں بڑے اچھے علاقے میں قرآنِ کریم کی ایک نمائش ہوئی۔قرآنِ کریم کی تعلیم کے بارہ میں یہ بڑی وسیع نمائش تھی اور بڑے خوبصورت طریقے سے سجائی گئی تھی۔ہندو، سکھ ، عیسائی اور اچھے پڑھے لکھے مسلمان بھی اُس میں آئے، دیکھتے رہے۔تین دن کی نمائش تھی۔پہلے دو دن تو علماء جو نام نہاد علماء ہیں انہوں نے اتنا شور مچایا اور پریشر ڈالا کہ وہاں حکومت کو خیال پیدا ہوا کہ کہیں فساد نہ پیدا ہو جائے۔اس لئے تیسرے دن حکومت نے جماعت کو درخواست کی کہ یہ نمائش بند کر دی جائے۔وہاں کے بڑے بڑے اخباروں نے اس کی بڑی تعریف کی کہ بڑی اعلیٰ نمائش تھی اور قرآنِ کریم کی تعلیم اور قرآن کریم کی حکمت کے بارے میں ہمیں اب پتہ لگا ہے۔بعض مسلمانوں نے یہ تبصرے کئے کہ قرآن شریف کی تعلیم کا ایسا خو بصورت علم تو ہمیں پہلے تھا ہی نہیں لیکن یہ مسلمان ہمیشہ روڑے اٹکاتے رہتے ہیں، ایسے ایسے غلط تصور ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔پھر مجھے ایک اور بات یاد آگئی۔میں کل پرسوں کی ڈاک میں دیکھ رہا تھا۔ایک شخص نے پاکستان سے لکھا کہ کہیں میں اپنے کسی غیر احمدی دوست کے ہاں افسوس کرنے گیا تو وہاں باتیں ہوتی رہیں۔ایک صاحب وہاں کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ احمدی ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ احمدی کرنے سے پہلے تمہیں ایک کمرے میں بند کر دیتے ہیں ، وہاں الماری پر قرآنِ کریم رکھ دیتے ہیں، پھر اُس کو کہتے ہیں الماری کو ہلا ؤ اور دھکے دو، اگر قرآنِ کریم گر جائے تو سمجھو کہ تم پہلے احمدی ہو گئے۔یہ تصورات ہیں، اس قسم کی جھوٹی باتیں ہیں۔سوائے اس کے کہ ان لوگوں پر بھیجی جائے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ان لوگوں نے اس طرح قوم کو بیوقوف بنا دیا ہے کہ کوئی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔بہر حال جرمنی کے حوالے سے باتیں ہو رہی ہیں تو جرمنی میں فرینکفرٹ کے قیام کے دوران (جیسا کہ آپ نے ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے بھی دیکھ لیا کہ خدام اور اطفال اور لجنہ کے اجتماعات بھی ہوئے، اُن میں شمولیت کی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے وہاں جانے اور اجتماع میں شامل ہونے کے فیصلے میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت ڈالی۔پہلی مرتبہ میں نے اجتماع میں اطفال کو ان کے مطابق کچھ باتیں کہیں اور وہیں مجھے خط آنے لگ گئے کہ