خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 523 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 523

523 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ملنے آئے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں جرمنی میں نوجوانوں میں کچھ عرصے سے کافی بیداری دیکھ رہا ہوں۔ان کے تعلقات بھی وسیع ہو رہے ہیں اور تبلیغ کی طرف بھی رجحان ہے۔بہر حال چند ملاقاتوں کا یہاں ذکر کروں گا اور ساتھ ہی جہاں جہاں دوسرے جماعتی پروگرام ہوئے، ان کا بھی ذکر آتارہے گا۔جرمنی میں مار برگ (Marburg) یونیورسٹی ہے، اُس کے دو پر وفیسر ملنے آئے تھے۔دونوں پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔پیری ہیکر (Pierre Hecker) اور البیسٹ فوکس (Albpecht Fuess)۔اور یہ دونوں یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔عربی بھی ان کو آتی ہے، اسلام کا علم بھی کافی ہے۔اور اُن میں سے ایک جو تھے انہوں نے ترکی زبان میں سپیشلائزیشن کی ہوئی ہے۔ان کے مضامین اسلامی تاریخ کے تھے۔پھر ان سے اسلامی تاریخ کے بارے میں بھی باتیں ہوئیں۔ان کو میں نے یہی کہا کہ جو آپ کے مؤرخین ہیں، یا ایسے مؤرخین جو مغربی مؤرخین سے متاثر ہوئے ہوئے ہیں، صرف اُن کی کتابیں نہ پڑھیں بلکہ عربی جانتے ہیں تو بعض دوسرے مؤرخین جن کے اصل ماخذ عربی ہیں یا دوسرے ماخذ ہیں، پھر احادیث ہیں اُن کو بھی آپ کو دیکھنا چاہئے۔اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی جو سیرۃ النبی کی کتاب ہے اس کا ایک حصہ ترجمہ ہو چکا ہے ، اُن کو میں نے کہا ہے کہ وہ مہیا کی جائے وہ بھی پڑھیں۔اس سے آپ کو پتہ لگے گا کہ کس طرح ایک تو سیرت بیان کی گئی ہے۔دوسرے کچھ اعتراضات کے جواب دیئے گئے ہیں۔اللہ کرے کہ باقی حصہ بھی اُس کا ترجمہ ہو جائے۔بہر حال یہ بڑی اچھی کتاب ہے ایسے لوگوں کے لئے جن کو سیرت کے ساتھ ساتھ اسلام پر کئے گئے اعتراضات کے بھی کچھ نہ کچھ جواب مل جاتے ہیں۔ان کی یونیورسٹی کی لائبریریوں میں Five Volume Commentary بھی اور سیرت کی یہ کتاب جو انگلش میں ترجمہ ہو چکی ہے رکھوانے کا بھی کہا ہے، انشاء اللہ پہنچ جائے گی۔اُن کو میں نے ایم۔ٹی۔اے کا بھی کہا کہ دیکھیں۔اس کو دیکھنے سے بہت سارے سعید فطرت جو ہیں ان کو اسلام کی حقیقت کے بارے میں پتہ لگ رہا ہے، صحیح تعلیم پتہ لگ رہی ہے۔وہ کہنے لگے کہ مصر کی الازہر یونیورسٹی میں آپ کے بارہ میں کیا سوچ ہے۔وہاں کوئی بات ہوئی ؟ تو ان کو میں نے کہا کہ ان کے پروفیسروں سے بھی چند سال پہلے بات چیت چلتی رہی اور اس پر پھر ہمارے عربی ڈیسک والوں نے اور شریف عودہ صاحب وغیرہ نے اُن کو بھجوانے کے لئے ایک کتاب تیار کی تھی جو اُن کو بھیجی گئی تھی لیکن ان لوگوں کے دل سخت ہیں، وہ مانتے نہیں لیکن جو سعید فطرت ہیں وہ اگر پڑھیں تو اُن کے دل بہر حال کھلتے ہیں۔تو یہ لمبی گفتگو تھی جو ایسے لوگوں سے ہوئی اور وہ بعد میں کافی اثر لے کر گئے۔فرینکفرٹ میں ارد گرد کے ماحول میں کچھ فاصلے پر (کچھ فاصلے سے مراد ہے) ایک ڈیڑھ سو کلو میٹر سے زیادہ اور ایک تقریب ستر اسی کلومیٹر کے اندر دو مساجد کے سنگ بنیاد رکھنے کا بھی موقع ملا۔وہاں ایک مسجد کی تقریب سنگ بنیاد میں میئر کے نمائندے کے طور پر اُن کے ڈپٹی میئر جو تھے وہ آئے ہوئے تھے۔اس تقریب میں انہوں نے بھی کچھ الفاظ کہے ، اور میں نے بھی مسجد کے حوالے سے کچھ باتیں کیں لیکن بعد میں باتیں کرتے ہوئے وہ کہنے