خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 509
509 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم تیار رہتے تھے۔بیعت کے فوراً بعد جماعتی چندہ جات میں بھی شامل ہوئے۔آپ کو بیعت کے بعد بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔عزیزوں رشتہ داروں نے آپ کا بائیکاٹ کر دیا لیکن اس بائیکاٹ کے باوجود آپ ایمان میں پختہ ہوتے چلے گئے۔آخر ان کے گھر والے بعض مولویوں سے ان کے بحث مباحثہ بھی کرواتے رہے لیکن مولویوں کے پاس تو کوئی دلیل نہیں وہ عاجز آجاتے تھے۔مولویوں نے ان کے گھر کے سامنے ایک جلسہ کیا، اکیلے اُس میں چلے گئے اور جب مولویوں کو کچھ بات نہ بنی تو کفر کے فتوے اور واجب القتل کے فتوے دینے لگے لیکن آپ بلا خوف اس جلسے میں شامل رہے اور اُن مولویوں کے ساتھ دلائل کے ذریعہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن مولویوں کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی آخر وہ گالیاں دے کر وہاں سے چلے گئے۔آپ کی پہلے ایک شادی ہوئی تھی لیکن وہ بیوی وفات پاگئی تھیں۔پھر 93ء میں پہلی بیوی کی دوسری بہن سے شادی ہوئی، اُن سے آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پید اہوئیں جن کی عمریں 17 سال، 15 سال،9سال،5 سال ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بیوی بچوں کو بھی استقامت عطا فرمائے۔ایمان میں ترقی دے اور ان کا حامی و ناصر ہو۔صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ان کا جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد ادا کروں گا انشاء اللہ۔ایک دوسرا جنازہ غائب ہے جو ہمارے فضل عمر ہسپتال کے بہت پرانے کارکن عبد الجبار صاحب ابن مکرم فضل دین صاحب کا ہے۔4 اکتوبر کو صبح آٹھ بجے 69 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔کافی لمبے عرصے سے بیمار تھے۔دل کی تکلیف تھی۔ان کا علاج تو بہر حال ہو رہا تھا۔لیکن اس تکلیف کے باوجود اپنے فرائض بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتے تھے۔تقریباً پینتالیس سال تک فضل عمر ہسپتال میں ان کو خدمت کی توفیق ملی۔انہوں نے پرانے بزرگوں کی خدمات کی ہیں۔ان کو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث" کی کافی خدمت کا موقع ملا۔بڑے ملنسار اور منکسر المزاج تھے بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہسپتال کے عملے میں سب سے زیادہ خوش اخلاق یہی تھے اور مریض ان کو پسند بھی بہت کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔تیسر اجنازہ ناصر احمد ظفر صاحب ابن مکرم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب کا ہے۔یہ بھی گو سرکاری ملازم تھے لیکن مختلف موقعوں پر ان کو جماعتی خدمات کرنے کی توفیق ملی اور ریٹائر منٹ کے بعد مستقل وقف کی طرح انہوں نے جماعت کی خدمات انجام دی ہیں اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ ان کا اچھا میل جول تھا اور حضرت خلیفہ المسیح الثالث بھی، خلیفہ المسیح الرابع بھی، اور ان کے بعد میں بھی مختلف لوگوں سے تعلق کی وجہ سے ان کو مختلف کاموں کے لئے بھیجتارہتا تھا۔علاقے کے ایک اچھے شوشل اور کر بھی تھے اور تعلقات بھی ان کو رکھنے آتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے بھی درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر اور ہمت عطا فرمائے۔یہ تمام جنازے ابھی انشاء اللہ نمازوں کے بعد ادا ہوں گے۔الفضل انٹر نیشنل 28 اکتوبر تا 3 نومبر 2011 ، جلد 18 شماره 43 صفحہ 5 تا 9)