خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد نهم 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جنوری 2011ء کذاب کہنے والوں کو یہ جواب دیا۔پس یہ ہے جو اب آپ پر الزام لگانے والوں اور استہزاء کرنے والوں کے لئے لیکن اس بات کے باوجود کہ خدا تعالیٰ نے آپ صلی علیہ کم اور مومنوں کو صبر اور دعا کی تلقین فرمائی ہے ، خدا تعالیٰ نے خود دشمن کو چھوڑا نہیں ہے۔صرف یہ جواب نہیں دے دیا کہ نہ وہ کا ہن ہے ، نہ وہ جھوٹا ہے اور نہ جو تم الزامات لگا رہے ہو وہ تمہارے صحیح الزامات ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ اِنا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِيْنَ (الحجر: 96) تو اس نے پھر دشمنانِ اسلام سے اس دنیا میں یا مرنے کے بعد بدلے بھی لئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ أَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَهَا وَهُمُ النَّارُ كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أَعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنْتُم به تكذِبُونَ - وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأدنى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ - وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِرَ بِأَيْتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ (السجدة: 21 تا 23) اور جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے نافرمانی کی تو ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔جب کبھی وہ ارادہ کریں گے کہ وہ اس سے نکل جائیں تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔اور ہم یقینا انہیں بڑے عذاب سے ورے چھوٹے عذاب میں سے کچھ چکھائیں گے۔(بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب میں سے کچھ چکھائیں گے) تاکہ ہو سکے تو وہ ہدایت کی طرف لوٹ آئیں۔اور کون اس سے زیادہ ظالم ہو سکتا ہے جو اپنے رب کی آیات کے ذریعے اچھی طرح نصیحت کیا جائے ، پھر بھی ان سے منہ موڑ لے۔یقینا ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ جو اپنے پیارے پر ہر وقت نظر رکھنے والا ہے ، اگر دشمن دشمنی سے باز نہ آئے تو اسے بغیر انتقام کے نہیں چھوڑتا۔اگر اللہ تعالیٰ کی تنبیہوں سے نہ ڈریں، اگر اس دنیا میں اللہ تعالیٰ لوگوں کی اصلاح کے لئے جو اپنے بعض جلوے دکھاتا ہے اُن سے نصیحت حاصل نہ کریں تو پھر اللہ تعالیٰ بغیر انتقام کے نہیں چھوڑتا۔پھر ضرور سزا دیتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ اختیار میرے پاس ہی ہے۔پھر آپ صلی علیہ کم کو مخاطب کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرُهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا۔وَذَرُنِي وَالْمُكَذِبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَ مَهْلَهُمْ قَلِيلًا - إِنَّ لَدَيْنَا انْكَالًا وَ جَحِيمًا وَطَعَامًا ذَاغْضَةٍ وَعَذَابًا الیما (المزمل: 11 تا 14) اور صبر کر اس پر جو وہ کہتے ہیں اور ان سے اچھے رنگ میں جدا ہو جا، اور مجھے اور ناز و نعم میں پلنے والے مکذبین کو الگ چھوڑ دے اور انہیں تھوڑی سی مہلت دے۔یقینا ہمارے پاس عبرت کے کئی سامان ہیں اور جہنم بھی ہے۔اور گلے میں پھنس جانے والا ایک کھانا ہے اور دردناک عذاب بھی۔پس جہاں آپ کو صبر کی تلقین فرمائی وہاں دنیا داروں کے متعلق فرمایا کہ دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں نے ان لوگوں کو کافر بنا دیا ہے ، اس کفر کی انہیں سزا ملے گی کیونکہ یہ حد میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔اور سزا بھی ایسی ہو گی جو دوسروں کے لئے عبرت کا نشان ہو گی۔پس یہ عبرت کا نشان بنانے کا معاملہ بھی خدا تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔اور نبی اور ماننے والوں کو صبر کرنے اور بغیر جھگڑے کے ان کی بیہودہ گوئیوں کو سن کر علیحدہ ہو جانے کا ارشاد فرمایا۔پھر خدا تعالیٰ خود آپ سزا دینے کا ذکر سورۃ العلق میں اس طرح فرماتا ہے اَروَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْدًا إذَا صَلَّى - أَرَوَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى - اَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَوَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلَّى - أَلَمْ يَعْلَمُ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى -