خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 499
499 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم تفصیل سے ایک کتاب ”تذکرۃ الشہادتین“ لکھی۔اُس میں اُن کی نیکی، تقویٰ، قبول احمدیت اور سعادت اور غیر معمولی ایمانی حالت کا ذکر کرنے کے ساتھ شہادت کے واقعات بھی مختلف خطوط سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اُن کے مریدوں نے لکھے تھے اُن میں سے خلاصہ لے کر اُن واقعات کا بھی ذکر کیا، اور آخر میں آپ فرماتے ہیں کہ : ”اے عبد اللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا“۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 60) پھر اُسی کتاب میں آپ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: (ہم) اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس قسم کا ایمان“ (یعنی حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف جیسا ایمان) ” حاصل کرنے کے لئے دعا کرتے رہیں، کیونکہ جب تک انسان کچھ خدا کا اور کچھ دنیا کا ہے تب تک آسمان پر (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 48) اُس کا نام مومن نہیں“۔پس یہ دعا ہے جو ہر احمدی کو کرنی چاہئے اور اس کے مطابق اپنے عملوں کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہم جانتے ہیں کہ انبیاء کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اُن پر اُن کے ماننے والوں پر سختیاں اور تنگیاں وارد کی گئیں اور یہاں تک کہ ہمارے آقا و مولیٰ محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کی خاطر میں نے زمین و آسمان پیدا کئے ، آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو بھی ان مصائب سے اور تکالیف سے گزرنا پڑا۔تاریخ اکثر لوگ پڑھتے ہیں پتہ ہے ، علم ہے۔مال، اولاد کی قربانی کے ساتھ سینکڑوں کو جان کی قربانی دینی پڑی۔پس جب بھی جماعت پر ابتلا کے دور کی شدت آتی ہے انبیاء کی تاریخ اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا دور ہمیں استقامت کے نمونے دکھانے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور ساتھ ہی اس ر بھی قائم کرتا ہے کہ یہ ابتلا اور امتحان کے دور آئندہ غلبہ کی راہ ہموار کرنے کے لئے آتے ہیں۔ہمیں ایمان میں ترقی کی طرف بڑھاتے چلے جانے کے لئے آتے ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مزید مضبوط کرتے چلے جانے کے لئے آتے ہیں۔ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ دلانے کے لئے آتے ہیں۔بیشک صحابہ رضوان اللہ علیہم نے جان، مال، وقت کی قربانیاں اسلام کی ترقی کے راستے میں دینے سے دریغ نہیں کیا لیکن اسلام کا غلبہ اور فتوحات صرف اس امتحان کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ اُن مسلمانوں کا جو خدا تعالیٰ سے خاص تعلق تھا، دعاؤں کے لئے جس طرح خدا تعالیٰ کے آگے جھکتے تھے، اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو رات کو اپنی دعاؤں سے عرش کے پائے ہلا دیا کرتے تھے اُس نبی کی دعائیں جو خدا تعالیٰ میں فنا ہو چکا تھا، جس نے اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دیا تھا، اصل میں اُس فانی فی اللہ کی دعاؤں نے وہ عظیم انقلاب پیدا کیا تھا۔لیکن کیا اللہ تعالیٰ کے اس پیارے کی دعاؤں کی قبولیت کے ذریعے اسلام کی تاریخ کا غلبہ اور فتوحات کا زمانہ صرف پچاس ساٹھ سال یا پہلی چند صدیوں کا تھا؟ یقینا نہیں۔آپ جب تا قیامت خاتم الانبیاء کا لقب پانے والے ہیں تو یہ غلبہ بھی تا قیامت آپ کے حصے میں ہی یقین پر