خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 488 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 488

خطبات مسرور جلد نهم 488 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء پس یہ دنیاوی سطح پر بھی جماعت کے مخلصین کی قربانیوں کا ذکر انہیں دوبارہ شکر گزاری کے مضمون کی طرف لوٹاتا ہے۔اور پھر اس شکر گزاری کا حق ادا کر کے انسان اللہ تعالیٰ کے مزید انعامات سے فیض پاتا ہے۔گویا یہ ایک ایسا فیض کا دائرہ ہے جو اپنے دائرے کے اندر ہی نہیں رہتا بلکہ لہروں کے دائرے کی طرح پھیلتا چلا جاتا ہے۔پانی میں آپ کنکر پھینکیں یا کوئی چیز پھینکیں تو دائرہ بنتا ہے ، چھوٹا دائرہ، بڑا دائرہ، بڑا دائرہ اور پھر وہ دائرہ پھیلتا چلا جاتا ہے لیکن اس دائرے کی یہ بھی خوبی ہے کہ جب یہ دائرہ انتہا کو پہنچتا ہے تو ختم نہیں ہو جا تا بلکہ انسان کی زندگی میں اگر نیکیاں جاری ہیں تو دائرہ پھیلتا چلا جاتا ہے اور جب انسان کی زندگی ختم ہوتی ہے تو اگلے جہان میں خدا تعالیٰ اس میں مزید وسعت پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔پس یہ مسجد اس کو آباد کرنے والوں کے لئے بے انتہا فضلوں اور برکتوں کے سامان لے کر آئی ہے۔اور ہر مسجد جو ہم تعمیر کرتے ہیں اُس کا یہی مقصد ہے۔اسے بے انتہا فضلوں اور برکتوں کے سامان لے کر آنا چاہئے۔اب ان فضلوں اور برکتوں کو سمیٹنا یہاں کے رہنے والوں کا کام ہے۔جتنی محنت سے اس کو سمیٹنے کی کوشش کریں گے اسی قدر فیض پاتے چلے جائیں گے ، یہاں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔قرآنِ کریم میں مسجد کو آباد کرنے والوں کا ذکر اس آیت میں ایک جگہ آیا ہے جو میں نے تلاوت کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔اب اللہ پر ایمان کی شرط سب سے ضروری ہے جو پہلے رکھی گئی ہے ، یہ ایمان صرف منہ سے کہہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کی اور مؤمن کی بعض نشانیاں بتائی ہیں، صرف اسلام میں شامل ہونا مؤمن نہیں بنا دیتا، جب تک مومنانہ اعمال بجالانے کی بھی کوشش نہ ہو۔جب عرب کے دیہاتی آتے تھے اور انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے تو اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا اسلمنا (الحجرات: 15) یہ نہ کہو کہ تم ایمان لے آئے ہو بلکہ یہ کہو کہ ہم نے ظاہری طور پر اسلام قبول کر لیا ہے، فرمانبرداری اختیار کرلی ہے۔اور ایمان کی یہ نشانی بتائی کہ تم اللہ اور اُس کے رسول کی سچی اطاعت کرو۔آج مسلمانوں میں سے غیر ہمیں اس بات کا نشانہ بناتے ہیں کہ تم مسلمان نہیں ہو حالانکہ ہم تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہوئے زمانے کے امام کو مانا ہے اور یہ کامل اطاعت ہمیں پکا مسلمان اور حقیقی مؤمن بناتی ہے۔گو ہمیں دوسرے مسلمان فرقے بیشک غیر مسلم کہتے رہیں لیکن اس اطاعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے اس حکم کی وجہ سے ہم پکے مومن ہیں۔آج احمدی ظلموں کا نشانہ بنائے جاتے ہیں لیکن پھر بھی احمدیت سے منحرف نہیں ہوتے تو حقیقی مسلمان ہم ہوئے یا دوسرے؟ ہم کسی کلمہ گو کو غیر مسلم نہیں کہتے لیکن ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم نے حقیقی مسلمان اُس کو قرار دیا ہے جو ہر طرح کی اطاعت کر کے اپنے ایمان میں مضبوطی پیدا کرنے والا ہو اور مضبوطی پیدا کرتا چلا جائے۔ہر دن اُس کے لئے ایمان میں اضافے کا باعث ہو اور جب تک ہم