خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 486 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 486

خطبات مسرور جلد نهم 486 39 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 2011ء بمطابق 30 تبوک 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت النصر اوسلو، ناروے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَ أَتَى الزَّكَوةَ وَ لَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَبِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (التوبة: 18) الحمد للہ آج ایک لمبے انتظار کے بعد جماعت احمد یہ ناروے کو اپنی اس خوبصورت مسجد کے افتتاح کی توفیق مل رہی ہے۔جس طرح اس مسجد کی تعمیر نے ایک لمبا عرصہ لیا اُسی طرح بعض روکیں پڑنے کی وجہ سے اس کے رسمی افتتاح میں آپ لوگوں کو کچھ انتظار کرنا پڑا۔لیکن یہ رسمی افتتاح تو صرف شکرانے کا ایک مزید اور دنیا کے سامنے اظہار ہے ورنہ مساجد کی تعمیر کا ان رسمی افتتاحوں سے کوئی ایسا تعلق نہیں کہ جس کے بغیر مسجد مکمل نہ کہلائی جاسکے۔پس آج میرا یہاں آنا اور نماز جمعہ پڑھانا، یہ خطبہ دینا اور غیروں کے ساتھ ، مہمانوں کے ساتھ شام کو انشاء اللہ مسجد کی تقریب میں ، افتتاح کی تقریب میں شامل ہونا اس احسان کی شکر گزاری کے طور پر ہے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ ناروے پر اس مسجد کی صورت میں فرمایا ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اُس کی نعمتوں کو اس کا شکر ادا کرتے ہوئے بیان کرو۔تاکہ اس شکر گزاری کے نتیجے میں جو ایک مؤمن کے دل سے اللہ تعالیٰ کے لئے پیدا ہو رہی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ مزید فضلوں اور انعاموں کا وارث ہمیں بنائے۔ایک شکر گزاری تو ہماری یہاں نمازیں پڑھ کر اس مسجد کو آباد کر کے ہو گی۔اور ایک شکر گزاری اس ظاہری اظہار کے ذریعے سے بھی ہے جو مہمانوں کے لئے reception یا اُن کا آنا ہے۔لیکن حقیقی شکر گزاری مسجد کی آبادی کا حق ادا کرنے سے ہی ہے۔پس یہ اہم بات ہر احمدی کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے۔اور پھر اللہ تعالیٰ اس ادا ئیگی حق کو بدلے کے بغیر نہیں چھوڑتا۔بدلہ بھی اتنازیادہ ہے کہ اس دنیا میں انسان اُس کا تصور اور احاطہ بھی نہیں کر سکتا۔ایک حدیث میں ایسے لوگوں کا ذکر اس طرح آیا ہے جو مسجد کو آباد رکھنے کے لئے، مسجد کا حق ادا کرنے کے لئے اُس میں جاتے ہیں۔