خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 485 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 485

485 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے لیے نہیں اس سے کیا فائدہ؟ خدا کے لیے قدم رکھنا امر سہل بھی ہے جبکہ خدا تعالیٰ اس پر راضی ہو جاوے اور روح القدس سے اس کی تائید کرے۔یہ باتیں پیدا نہیں ہوتی ہیں۔جبتک اپنے نفس کی قربانی نہ کرے اور نہ اس پر عمل فرمایا وَ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى (النازعات: 41-42)“ اور ہو۔وہ جو اپنے رب کے مرتبے سے خائف ہوا اور اُس نے اپنے نفس کو ہوس سے روکا تو یقینا جنت ہی اُس کا ٹھکانہ ہو گی“۔فرمایا: (اس) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے اگر ہوائے نفس کو روک دیں۔“ فرمایا کہ ”صوفیوں نے جو فناوغیرہ الفاظ سے جس مقام کو تعبیر کیا ہے وہ یہی ہے کہ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الهوی“ کہ اپنے نفس کو ہوس سے روکو، اس کے نیچے ہو۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 20 3 مطبوعہ ربوہ) پھر فرماتے ہیں: ”میں یہ سب باتیں بار بار اس لیے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی، اُسے دوبارہ قائم کرے۔عام طور پر تکبر دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں۔فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔اُن کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔اُن کی غرض و غایت صرف جسم تک محدود ہے۔اس لیے اُن کے مجاہدے اور ریاضتیں بھی کچھ اور ہی قسم کے ہیں جیسے ذکر ارہ وغیرہ۔جن کا چشمہ نبوت سے پتہ نہیں چلتا“۔(ایسی ایسی ریاضتیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہو تیں، پتہ نہیں چلتا)۔فرمایا ”میں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں۔صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوا ہے جس میں روحانیت کا کوئی نام و نشان نہیں۔یہ مجاہدے دل کو پاک نہیں کر سکتے اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں۔پس یہ زمانہ اب بالکل خالی ہے۔نبوی طریق جیسا کہ کرنے کا تھا وہ بالکل ترک کر دیا گیا ہے اور اس کو بھلا دیا ہے۔اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ عہد نبوت پھر آجاوے اور تقویٰ اور طہارت پھر قائم ہو اور اس کو اُس نے اس جماعت کے ذریعہ چاہا ہے“۔فرمایا ” پس فرض ہے کہ حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو اسی طرح پر جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کا طریق بتایا ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 213-214 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے ، تاکہ ہم بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ آنے والے اُس انقلاب اور تغیر کا حصہ بن سکیں جو اب آپ کے ذریعہ مقدر ہے انشاء اللہ تعالیٰ الفضل انٹر نیشنل مورخه 14 اکتوبر تا 20 اکتوبر 2011 ء جلد 18 شمارہ 41 صفحہ 5 تا 8)