خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 484 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 484

484 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جو نہ نمازیں پڑھیں گے ، نہ قرآن پڑھیں گے لیکن پیروں کے مرید ہیں اور اُن کی دعاؤں کو ہی اپنے لئے کافی سمجھتے ہیں۔اگر جنتیں اس طرح قریب ہوتی ہیں اور ملنی ہیں پھر تو قرآن کریم کے احکامات کی نعوذ باللہ کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔قرآنِ کریم کی بھی ضرورت نہیں ہے۔پس ہم بڑے خوش قسمت ہیں جنہوں نے زمانے کے امام کو مان کر جنت کی حقیقت کا پتہ لگایا ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ادراک حاصل کیا ہے۔کئی لوگ مجھے دعا کے لئے کہتے ہیں، تو جب پوچھا کہ تم نمازوں میں باقاعدہ ہو ؟ تو پتہ چلتا ہے کہ نہیں ہیں۔تو میں تو یہی جواب دیا کرتا ہوں کہ پہلے خود دعا کرو اور اپنی دعا سے میری دعا کے قبولیت میں مدد گار بنو اور یہ سنت کے مطابق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم فرمائی ہے۔ایک مرتبہ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کے لئے عرض کیا تو آپ نے فرمایا میں دعا کروں گا لیکن تم بھی اپنی دعاؤں سے میری مدد کرو۔(مسلم کتاب الصلوۃ باب فضل السجود والحث عليه حدیث : 1094) پس یہ ہے وہ خوبصورت نقشہ جو ایک مسلمان معاشرے کا ہونا چاہئے کہ اپنے اعمال کی اصلاح کرو، اپنے لئے دعائیں کرو اور جس کو دعا کے لئے کہو اُس کی بھی اپنی دعاؤں کے ذریعے سے مدد کرو۔دعائیں وہی قبولیت کا درجہ پاسکتی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق کی جائیں، اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔اور ان دعاؤں میں بھی دین کی برتری کے لئے دعا کو ترجیح دینی چاہئے۔جب اس سوچ کے ساتھ زندگی بسر ہو رہی ہو گی اور دعاؤں کی طرف توجہ ہو گی تو پھر وہ عظیم انقلاب بھی پیدا ہو گا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس عظیم غلام کو دنیا میں بھیجا تھا اور جس کے آنے سے جنت انسان کے قریب کر دی گئی تھی۔پس ہر احمدی کو اپنی سوچوں کو اس طریق کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے ، اپنے عملوں کو اس نہج پر بجالانے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ اقتباسات پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دین کے ساتھ دنیا جمع نہیں ہو سکتی۔ہاں خد متگار کے طور پر تو بیشک ہو سکتی ہے۔لیکن بطور شریک کے ہر گز نہیں ہو سکتی۔یہ کبھی نہیں سنا گیا کہ جس کا تعلق صافی اللہ تعالیٰ سے ہو وہ ٹکڑے مانگتا پھرے۔اللہ تعالیٰ تو اس کی اولاد پر بھی رحم کرتا ہے۔جب یہ حالت ہے تو پھر کیوں ایسی شرطیں لگا کر ضد میں جمع کرتے ہیں۔ہماری جماعت میں وہی شریک سمجھنے چاہئیں جو بیعت کے موافق دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہیں۔جب کوئی شخص اس عہد کی رعایت رکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف حرکت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو طاقت دے دیتا ہے۔صحابہ کی حالت کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک صاف کر دیا۔حضرت عمر کو دیکھو کہ آخر وہ اسلام میں آکر کیسے تبدیل ہوئے۔اسی طرح پر ہمیں کیا خبر ہے کہ ہماری جماعت میں وہ کون سے لوگ ہیں جن کے ایمانی قوی ویسے ہی نشو و نما پائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے۔اگر ایسے لوگ نہ ہوں جن کے قومی نشو و نما پا کر ایک جماعت قائم کرنے والے ہوں تو پھر سلسلہ چل کیسے سکتا ہے۔مگر یہ خوب یاد رکھو کہ جس جماعت کا قدم خدا