خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد نهم 472 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء فرماتے ہیں : ”اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل انسان پر ہو تو وہ ان دونوں پہلوؤں پر قائم ہو سکتا ہے“۔پس ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اُس کا فضل ما نگیں کہ ہمارے قدم کبھی پیچھے نہ ہٹیں، نیکیوں میں ہم پیچھے نہ جائیں، تقویٰ میں ہم ترقی کرنے والے ہوں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کا فضل ہمارے شامل حال ہو۔فرمایا کسی میں قوت غضبی بڑھی ہوئی ہوتی ہے ( یعنی غصے میں بہت جلدی آجاتا ہے )۔”جب وہ جوش مارتی ہے تو نہ اس کا دل پاک رہ سکتا ہے اور نہ زبان“۔( جب انسان غصے میں آتا ہے، غضب میں آتا ہے تو پھر فرمایا کہ نہ دل اُس وقت پاک ہے ، نہ اس کی زبان پاک ہے اور یہی ہمیں دیکھنے میں آیا ہے۔بہت سارے مسائل، بہت ساری لڑائیاں، بہت ساری رنجشیں اسی لئے پیدا ہوتی ہیں ، یا دلوں میں کینے پلتے ہیں اور بدلے لئے جاتے ہیں یا پھر زبان اس طرح چلائی جاتی ہے کہ وہ لگتا ہی نہیں کسی ایک مومن کی زبان ہے جس سے شریفانہ الفاظ ادا ہو رہے ہوں)۔پھر فرمایا ” دل سے اپنے بھائی کے خلاف ناپاک منصوبے کرتا ہے اور زبان سے گالی دیتا ہے۔اور پھر کینہ پیدا کرتا ہے۔کسی میں قوت شہوت غالب ہوتی ہے اور وہ اس میں گرفتار ہو کر حدود اللہ کو توڑتا ہے“۔( ان ملکوں میں گندی فلمیں دیکھنا، بے حیائی کی باتیں سننا، ان لغویات کو دیکھنا یہ سب اسی لئے پیدا ہوتی ہیں کہ دل میں تقویٰ نہیں ہو تا اور یہی قوتِ شہوت ہے جو غالب ہو جاتی ہے۔نوجوانوں کو خاص طور پر اس کا خیال رکھنا چاہئے)۔فرمایا: غرض جب تک انسان کی اخلاقی حالت بالکل درست نہ ہو وہ کامل ایمان جو منعم علیہ گروہ میں داخل کرتا ہے اور جس کے ذریعہ سچی معرفت کا نور پید ا ہوتا ہے اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔پس بہت قابل فکر بات ہے کہ عہد تو ہم یہ کر رہے ہیں کہ ہم ایمان میں بڑھیں گے۔آپ فرما رہے ہیں کہ کامل ایمان پیدا ہی نہیں ہو سکتا اگر یہ باتیں تمہارے اندر ہیں۔فرمایا: ”پس دن رات یہی کوشش ہونی چاہیے کہ بعد اس کے جو انسان سچا موحد ہو اپنے اخلاق کو درست کرے“۔(جب آپ نے اس بات پر یقین قائم کر لیا کہ میں ایک خدا کی عبادت کرنے والا ہوں تو پھر اپنے اخلاق کو بھی درست کرو)۔فرمایا ”میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی ہے“۔(حالانکہ اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے ، اخلاقی حالت کے معیار بہت اعلیٰ تھے۔آپ اُن سے بھی اونچا دیکھنا چاہتے تھے۔آج ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہماری کیا حالت ہے)۔فرماتے ہیں کہ اکثر لوگوں میں بدظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔وہ اپنے بھائی سے نیک ظنی نہیں رکھتے اور ادنی ادنی سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے برے خیالات کرنے لگتے ہیں اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف (یعنی یہ باتیں کرنے والے کی طرف) منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔اس لیے اول ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بد ظنی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے، کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور انس پید اہوتا ہے اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ ، بغض، حسد وغیرہ سے بچارہتا ہے“۔( مخالفین کی حسد کی