خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 462
خطبات مسرور جلد نهم 462 36 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 2011ء بمطابق 16 تبوک 1390 ہجری شمسی بمقام باد کرو ئز ناخ (جرمنی) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج یہاں خدام الاحمدیہ جرمنی اور لجنہ اماءاللہ جر منی کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔اور برطانیہ میں بھی خدام الاحمدیہ برطانیہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔اسی طرح بعض اور ملک بھی ہیں جہاں آج جلسے اور اجتماعات ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام اجتماعات کو اپنے خاص فضل سے کامیاب فرمائے۔ہر شامل ہونے والا بے انتہا فیض اُٹھانے والا ہو ، اس اجتماع کے مقصد کو پورا کرنے والا ہو۔اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے تمام شامل ہونے والوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔حاسدین اور مخالفین کے شر سے محفوظ رکھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ہر دن جماعت میں ترقی دیکھتے ہیں اور جوں جوں یہ ترقی کی رفتار بڑھ رہی ہے دنیا کے ہر ملک میں حسد کرنے والے اور شر پھیلانے والے پیدا ہو رہے ہیں۔اور یہ حاسدین اور شر پھیلانے والوں کا بڑھنا ہی اس بات کی علامت اور دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں جماعت احمدیہ کے قدم ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پس یہ مخالفین اور دشمن کی منصوبہ بندیاں جماعت کے بڑھنے اور ترقی کرنے کا معیار ہیں اور اس سے ایک مومن کو پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ہاں اگر کوئی پریشانی کی بات کسی مومن کے لئے ہے یا ہو سکتی ہے تو وہ یہ کہ اُس کے جماعت اور خلافت کے ساتھ اخلاص میں کہیں کمی نہ ہو جائے۔اُس کے تقویٰ پر چلنے کے معیار گرنے نہ شروع ہو جائیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر نیکی اور تقویٰ میں ایک جگہ ٹھہر بھی گئے ہو تو یہ بھی تمہارے لئے بڑی خطر ناک بات ہے ، سوچنے کا مقام ہے کیونکہ اس کے بعد پھر نیچے گراوٹ شروع ہو جاتی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ نمبر 455 - مطبوعہ ربوہ) پس ہمارے مردوں کو ، ہماری عورتوں کو ، ہمارے بچوں کو ، ہمارے بڑوں کو ، ہمارے نوجوانوں کو ، ہمارے بوڑھوں کو اپنے اُس دشمن کی فکر کرنی چاہئے جو انہیں تقویٰ میں آگے بڑھنے سے روک رہا ہے ، انہیں نیکیوں میں آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :