خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 463 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 463

خطبات مسرور جلد نهم 463 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2011ء میں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو گا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا۔وہ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (نحل: 129) ” یعنی یقینا اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے اور جو نیکیاں کرنے والے ہیں“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 112۔مطبوعہ ربوہ) پس اگر نیکیوں اور تقویٰ میں ہمارے قدم آگے بڑھ رہے ہیں تو دشمن ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔گزشتہ تقریباً سوا صدی سے ہم یہی دیکھ رہے ہیں۔ہر ایک یہی مشاہدہ کر رہا ہے ، یہی ہم نے دیکھا ہے کہ دشمن نے ہمارے چند پیاروں کی زندگی تو گو ختم کر دی اور ہمارے مالوں کو تو بے شک لوٹا ہے ، اس کے بدلے میں اس دنیا سے جو جانیں رخصت ہوئیں اُن کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے دائمی زندگی مل گئی۔وہ ان لوگوں میں شامل ہو گئیں جو دائمی زندگی پانے والے لوگ تھے اور انفرادی طور پر بھی مال کی کمی بھی اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دی۔آپ میں سے بہت سارے یہاں بیٹھے ہیں جو اس چیز کے گواہ ہیں اور جماعتی طور پر بھی اس قربانی کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جن انعامات سے نوازا ہے اس کا تو کوئی حساب اور شمار ہی نہیں ہے۔پس اگر ہمیں فکر ہونی چاہئے تو دشمنوں کے مکروں کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنے تقویٰ کی کہ یہ نہ کہیں ہمارے ہاتھ سے نکل جائے، اس میں ہماری طرف سے کمی نہ پیدا ہو جائے۔اگر ہمارا پختہ تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو گا تو ہماری دعائیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچیں گی اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایاد شمن سے خدا خود سمجھ لے گا اور سمجھ رہا ہے۔مخالفین کے اتنے شور شرابے کے باوجود، صرف مقامی طور پر ملکوں کے اندر یہ مخالفت نہیں ہے بلکہ اخباروں اور ٹی وی چینلز کے ذریعے سے تمام دنیا میں احمدیت کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن مخالفت جماعت کے تعارف کا باعث بنتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں بھی نہیں پتہ چلتا کہ کس طرح ہمارا پیغام پہنچ رہا ہے۔ایک مجلس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ: کثرت کے ساتھ لوگ اس سلسلہ میں داخل ہو رہے ہیں۔بظاہر اس کے وجوہ اور اسباب کا ہمیں علم نہیں۔ہماری طرف سے کون سے واعظ مقرر ہیں جو لوگوں کو جا کر اس طرف بلاتے ہیں یہ محض خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشش لگی ہوئی ہوتی ہے جس کے ساتھ لوگ کھچے چلے آتے ہیں۔۔۔“۔فرمایا ”جہاں تک اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو پہنچانا چاہتا ہے اُس حد تک اس نے کشش رکھ دی ہے“۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 318 مطبوعہ ربوہ) پس ایک تو لوگوں کا رُخ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ اور آپ کی کتب پڑھ کر آپ کی طرف ہوا، کچھ آپ کے پیغام کو سن کر جو آپ کے واعظین و مبلغین نے پھیلایا اس کوٹن کر لوگوں کی توجہ پید اہوئی، کچھ لوگوں کو اُن کی تڑپ دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے راہِ ہدایت دکھائی اور دکھاتا ہے اور دکھاتا چلا جارہا ہے۔پس ایسے ہی لوگ ہیں جو کسی کو شش کے ذریعے سے نہیں بلکہ کہیں سے پیغام سن لیا یا اللہ تعالیٰ نے جن کی رہنمائی فرمائی۔یاجو بھی سعید فطرت ہدایت کی دعا کرتے ہیں ان ہی لوگوں کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ