خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 460

460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس رسول کے ماننے والے ہیں جو تمام دنیا کے فتنوں اور فسادوں کو ختم کرنے آیا تھا جو دنیا کے لئے ایک رحمت بن کے آیا تھا، جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء: 108 ) کہ ہم نے تجھے دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔پس دنیا میں سچائی کا بول بالا کر کے اور فسادوں کو ڈور کر کے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت کا باعث بننا ہے۔پس آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس اصدق الصادقین اور رحمتہ للعالمین کی سنت پر قائم ہوں۔اپنوں کو بھی سچائی کے اظہار سے اپنا گرویدہ کریں، پیار و محبت کا پیغام پہنچائیں اور غیروں کو بھی صدق کے ہتھیار سے مغلوب کریں۔پستول، بندوقیں، رائفلیں اور تو ہیں تو گولیاں اور گولے برسا کر زندگیوں کو ختم کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں لیکن جو سچائی کا ہتھیار ہم نے اپنے عملوں اور اظہار سے چلانا ہے اور کرنا ہے یہ زندگی بخشنے والا ہتھیار ہے۔پس اس ہتھیار کو لے کر آج ہر احمدی کو باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔اللہ کرے کہ ہم سچائی کے پھیلانے کا یہ روحانی حربہ استعمال کر کے دنیا کے سعید فطرتوں اور نیکیوں کے متلاشیوں کو جمع کر کے ان کے ذریعہ صدق کی ایسی دیواریں کھڑی کرنے والے بن جائیں جس کو کوئی جھوٹی اور شیطانی طاقت گرانہ سکے۔اور پھر یہ صدق کا نور جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور ہے وہ نور جو خدا تعالیٰ کے نور کا پر تو ہے دنیا میں پھیلے اور پھیلتا چلا جائے، انشاء اللہ ، اور دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر توحید کے نظارے دیکھنے والی بن جائے، اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔آج بھی ایک افسوسناک خبر ہے۔میں جمعہ کے بعد انشاء اللہ ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔ہمارے فیصل آباد کے ایک احمدی بھائی نیم احمد بٹ صاحب ابن مکرم محمد رمضان بٹ صاحب کو دو تین دن ہوئے فیصل آباد میں شہید کر دیا گیا ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کے دادا کے ذریعے سے ان کے خاندان میں احمدیت آئی تھی جن کا نام غلام محمد صاحب تھا۔ان کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔نسیم احمد بٹ صاحب 1957ء میں فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور پیدائشی احمدی تھے۔4 ستمبر بروز اتوار کو نامعلوم افراد آپ کے گھر دیوار پھلانگ کر آئے اور فائرنگ کر کے شہید کر دیا، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُون۔تین اور چار ستمبر کی رات کو یہ آئے تھے۔آپ باہر صحن میں سوئے ہوئے تھے ، آپ کو اُٹھایا اور نیند کی حالت میں آپ پر فائرنگ کر دی۔دو فائر پیٹ میں لگے دوسرا کمر میں لگا، زخمی حالت میں آپ کو ہسپتال پہنچایا گیا اور چار ستمبر کو صبح نو بجے آپ کی ہسپتال میں وفات ہوئی۔شہادت سے قبل گولیاں لگنے کے بعد خود کو سنبھالا اور اپنی بیوی کو حوصلہ اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔آپ کے چھوٹے بھائی وسیم احمد بٹ صاحب 1994ء میں اور پھر آپ کے تایازاد بھائی نصیر احمد بٹ صاحب ولد اللہ رکھا صاحب کو گزشتہ سال شہید کیا گیا تھا۔اس موقع پر بھی آپ نے بڑے صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔شہادت کے وقت مکرم نسیم بٹ صاحب کی عمر 54 سال تھی۔ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے۔بااخلاق اور باکردار شخصیت کے حامل اور بڑے بہادر نڈر انسان تھے۔جماعتی کاموں میں حصہ لیتے تھے۔جماعتی چندوں کی ادائیگی میں با قاعدہ تھے۔