خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 454
454 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم گے۔جو بظاہر ناممکن بات تھی کہ اُس کے پیچھے کوئی فوج چھپی ہو یہ ہو نہیں سکتا کہ نظر نہ آئے۔لیکن اس کے باوجود سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) تو نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اس لئے ہم یقین کر لیں گے۔(صحیح بخاری کتاب التفسیر ، سورۃ تبت یدا ابی لھب۔۔۔باب 1/1 حدیث نمبر 4971) پھر آپ نے اُن لوگوں کو تبلیغ کی۔لیکن یہ دنیا دار لوگ تھے۔جو پتھر دل تھے اُن پر تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوا، اُن کے انجام بھی بد ہوئے، کچھ بعد میں مسلمان ہوئے۔تو بہر حال انبیاء اپنی سچائی سے ہی دنیا کو اپنی طرف بلانے کے لئے قائل کرتے ہیں۔قرآنِ کریم نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغ کے ذکر کو بیان فرماتے ہوئے قرآنِ کریم میں آپ کے یہ الفاظ محفوظ فرمائے ہیں کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس: 17 ) یعنی پس میں اس سے پہلے بھی تمہارے در میان ایک عمر گزار چکا ہوں کیا تم عقل نہیں کرتے۔یہ وہ دلیل ہے جو نبوت کی سچائی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جانے کے متعلق دی کہ میں نے ایک عمر تمہارے درمیان گزاری ہے کبھی جھوٹ نہیں بولا اب بوڑھا ہونے کو آیا ہوں تو کیا اب جھوٹ بولوں گا اور وہ بھی خدا تعالیٰ پر ؟ جس نے جھوٹ کو شرک کے برابر قرار دیا ہے اور یہ بھی میری تعلیم میں درج ہے۔اور میں تو آیا ہی توحید کے قیام کے لئے ہوں۔پس یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا۔پس انبیاء کی تبلیغ کا بہت بڑا ذریعہ اور ہتھیار اُن کی سچائی کا اظہار ہوتا ہے۔اُن کی زندگی کے ہر پہلو میں سچائی کی چمک ہوتی ہے جس کا حوالہ دے کر وہ اپنی تبلیغ کرتے ہیں اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ الہام ہوا کہ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ اور میں ایک عمر تک تم میں رہتا رہا ہوں کیا تم کو عقل نہیں۔اس بارے میں ”نزول المسیح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قریباً 1884ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وحی سے مشرف فرمایا کہ وَلَقَد لَبِثْتُ فِيكُم عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔اور اس میں عالم الغیب خدا نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ کوئی مخالف کبھی تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگا سکے گا۔چنانچہ اس وقت تک جو میری عمر قریباً پینسٹھ سال ہے (جب آپ نے یہ لکھافرمایا کہ میری عمر پینسٹھ سال ہے ) کوئی شخص دور یا نزدیک رہنے والا ہماری گزشتہ سوانح پر کسی قسم کا کوئی داغ ثابت نہیں کر سکتا بلکہ گزشتہ زندگی کی پاکیزگی کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود مخالفین سے بھی دلوائی ہے جیسا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے نہایت پر زور الفاظ میں اپنے رسالہ اشاعۃ السنتہ میں کئی بار ہماری اور ہمارے خاندان کی تعریف کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس شخص کی نسبت اور اس کے خاندان کی نسبت مجھ سے زیادہ کوئی واقف نہیں اور پھر انصاف کی پابندی سے بقدر اپنی واقفیت کے تعریفیں کی ہیں۔پس ایک ایسا مخالف جو تکفیر کی بنیاد کا بانی ہے پیشگوئی وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ کا مصدق ہے“۔( نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 590) پس سچائی ایک ایسی چیز ہے جو نبی کے سچا ہونے کے لئے اور تبلیغ کے لئے ایک بہت بڑا ذریعہ ہے، تبھی تو