خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 453 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 453

453 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دنیا میں انبیاء بھیجتا آیا ہے کہ جب جھوٹ اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے جب فساد اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے، سچائی کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو اس وقت یہ اللہ تعالیٰ کے فرستادے اور انبیاء آتے ہیں جو سچائی کو پھر دنیا میں قائم کرتے ہیں، جو مخالفت کے باوجو د سچائی کا پر چار کرتے ہیں اور آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اُن کے راستے میں دشمن لاکھ روڑے اٹکائے مگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب ہو کر رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہمیشہ ان انبیاء کے ساتھ رہتی ہے ، اُس کے فرستادوں کے ساتھ رہتی ہے ، اُن کی مدد کرتی رہتی ہے۔یہی اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ اس کو پورا فرما تا چلا جا رہا ہے۔یہ جلسے کرتے ہیں جلوس نکالتے ہیں ظلم کرتے ہیں۔اب سات ستمبر کے حوالے سے پاکستان میں جلسے ہوئے ، ربوہ میں بھی جلسہ ہوا۔بڑے بڑے علماء ، جوان کے چوٹی کے علماء آتے ہیں، آئے اور جلسوں کا نام رکھا ہوتا ہے " تاجدارِ ختم نبوت کانفرنس“ اور وہاں سوائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دینے کے جماعت کے خلاف یاوہ گوئی کرنے کے اور کچھ نہیں ہو رہا ہو تا۔ساری رات اسی طرح کی بیہودہ گوئی کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر اللہ اور رسول کے نام پر۔تو بہر حال یہ تو ان کا حال ہے لیکن اُس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی تقدیر چل رہی ہے اور جماعت کے قدم آگے سے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر نہ ہو۔اللہ تعالیٰ اگر اپنے وعدوں کو پورا نہ کرے اور اُس کے بھیجے ہوئے غالب نہ آئیں تو پھر اللہ تعالیٰ تو نعوذ باللہ اپنے وعدوں میں غلط ثابت ہو اور دین پر سے انبیاء پر سے خدا تعالیٰ پر سے دنیا کا ایمان اُٹھ جائے۔پس اللہ تعالیٰ تو اس ایمان کو قائم رکھنے کے لئے نیک فطرتوں کے ایمانوں کو بڑھانے کے لئے ایسے نظارے دکھاتا ہے جو ہر لمحہ اُن کے ایمان میں تقویت کا باعث بنتے ہیں۔کچھ پرانے قصوں میں سچائی کے واقعات بیان کر کے اپنے ماننے والوں کے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں، کچھ تازہ واقعات بیان کر کے اپنے دین کے بانی اور ان کے سچے ہونے کے واقعات سے متاثر کرتے ہیں اور اُس کے ماننے والے متاثر ہوتے ہیں، کچھ کو اللہ تعالیٰ اپنے بھیجے ہوئے کی سچائی کے بارے میں اطلاع دے کر رہنمائی فرماتا ہے۔بہر حال مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی سچائی اور صدق ہی اُسے اپنے وقت میں ، اپنی زندگی میں یعنی اُس نبی کی زندگی میں اُس فرستادے کی زندگی میں لوگوں کی توجہ کھینچنے کا ذریعہ بناتا ہے اور کچھ بعد میں دین کی ترقیات دیکھ کر ، ماننے والوں کے عمل دیکھ کر ، اُس جماعت کو دیکھ کر جو اُس نبی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ، خدا کی طرف سے رہنمائی پاکر ہدایت پاتے ہیں۔بہر حال جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور کرتے ہیں تو آپ کو لوگ، اُس زمانے کے کفار بھی صدوق وامین کے نام سے ہی جانتے تھے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، حدیث بنیان الکعبہ۔۔۔صفحہ 155، مادار بین رسول اللہ صلی للی کم و بین رؤساء قریش صفحہ 224 دارالکتب العلمیة بیروت 2001ء) یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی ہی تھی کہ جب آپ نے اپنے عزیزوں اور مکہ کے سرداروں کو جمع کر کے کہا کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس ٹیلے کے پیچھے ایک فوج چھپی ہوئی ہے جو تمہیں نظر نہیں آرہی تو کیا یقین کر لو