خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 452
452 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے ذریعے سے ہی کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمیں غلطی لگی۔جتنا کچھ ہمیں بتایا گیا تھا اتنا کچھ ثابت نہیں ہوا۔اصل میں تو یہ سچائی بھی جھوٹ چھپانے کے لئے ہے۔مقصد وسائل پر قبضہ کرنا تھا جو ہو گیا لیکن اس کا موقع بھی مسلمان ہی مہیا کرتے ہیں۔اگر سینکڑوں بلین ڈالرز کی ملک کی دولت عوام پر خرچ کی جائے تو نہ کبھی ملک کے اندر ایسے فتنے فساد اُٹھیں ، نہ ان لوگوں کو دخل اندازی کی جرات ہو۔بہر حال خلاصہ کلام یہ کہ بین الا قوامی جھوٹ اور صداقت کو نہ صرف چھپانے بلکہ اس کی دھجیاں بکھیرنے میں عموماً تمام دنیا کی حکومتیں ہی اپنا اپنا کر دار ادا کر رہی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بچ جائیں گے۔اگر اس دنیا میں بچ بھی جائیں تو ایک آئندہ زمانہ بھی آنا ہے ، ایک آئندہ زندگی بھی ملنی ہے ، ایک آئندہ دنیا بھی ہے جس میں تمام حساب کتاب ہونے ہیں۔پھر ان دنیا داروں پر ہی بس نہیں ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کے نام پر مذہب کے نام نہاد علمبر دار سچائی کو رد کرتے ہیں اور جھوٹ کو فروغ دیتے ہیں۔اس میں اسلام دشمن طاقتیں بھی ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں اور اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے مخالفین بھی ہیں یعنی مسلمان بھی شامل ہیں جو اسلام دشمن طاقتوں کا ہی کردار ادا کر رہے ہیں۔سچائی کو جانتے ہیں لیکن اپنے مفادات اور منبر کی خاطر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔عوام الناس کے ذہنوں کو بھی زہر آلود کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ رہے ہیں۔کئی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت کی کتب اور لٹریچر پڑھ کر درس دیتے ہیں، اسی سے تقریریں تیار کرتے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ ان کے پاس مخالفین اسلام کا منہ بند کرنے کے لئے کوئی دلائل نہیں ہیں، کوئی مواد نہیں ہے، لٹریچر نہیں ہے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے اسلام کا دفاع ایسے پر زور اور پر شوکت رنگ میں کیا ہے اور ایسے دلائل کے ساتھ کیا ہے کہ جس کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔لیکن عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ شخص جھوٹا ہے۔پہلے بھی میں ایک دفعہ ذکر کر چکا ہوں اور ایک دو دفعہ نہیں، مختلف لوگوں کے بارے میں، علماء کے بارے میں جو ٹی وی پر آکر بڑے درس بھی دیتے ہیں اور تقریریں کرتے ہیں کسی نے بتایا ہے کہ خود انہوں نے اُن کے گھروں میں تفسیر کبیر کی اور کتب کی جلدیں دیکھی ہیں اور اس لئے نہیں کہ صرف اعتراض تلاش کریں۔وہ تو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہی ہیں ، لیکن خود انہوں نے بتایا کہ اس سے فائدہ اُٹھا کر یہ اپنے درسوں وغیرہ میں دلائل استعمال کرتے ہیں۔تو ان لوگوں کو اسلام کی برتری ثابت ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اس لئے عوام الناس کو بھی سچائی کے راستے دیکھنے کے طریق کبھی نہیں بتائیں گے کہ کہیں اس سے ان کے منبر و محراب ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔اُس سے ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں۔لیکن بہر حال یہ ان کی کوششیں ہیں اور ہر زمانے میں جب بھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی فرستادے کو بھیجتا ہے تو مخالفین یہی کوششیں کرتے ہیں لیکن ایک اللہ تعالیٰ کی تقدیر بھی چلتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہمیشہ غالب رہتی ہے۔سچائی کو ہی اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے غالب کرنا ہے اور اسی لئے ہمیشہ خدا تعالیٰ