خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 445
خطبات مسرور جلد نهم 445 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء کہ یہ ہماری جگہ پر آئے ہیں ذرا تحمل سے ، ذرا برداشت سے کام لو، اخلاق سے کام لو، یہ طریق اچھا نہیں ہے لیکن لوگوں میں اس بات کو سُن کر اتنا جوش پیدا ہوا کہ اُنہوں نے اُس مولوی کو مسجد سے نکال دیا۔تو یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے ہی ملاؤں اور نام نہاد علماء کا طریق چلا آرہا ہے۔پرانے واقعات بھی کئی ایسے ملتے ہیں کہ جب احمدی قرآن کے ذریعہ سے کوئی دلیل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، آیات کے ذریعہ سے ، تو ہمیشہ یہ لوگ حدیث اور دوسری باتوں کی طرف لے جاتے ہیں۔وہ حدیثیں جن کی اپنی مرضی سے interpretation کرتے ہیں یا دوسرے علماء کی باتیں۔ایک صحابی کا پر انا واقعہ بھی اس طرح ہی ملتا ہے کہ انہوں نے جب بیعت کی ہے تو ایک بڑے عالم کو انہوں نے کہا کہ میں نے احمدی مولوی صاحب کو اس بات پر منالیا ہے کہ وہ قرآنِ کریم سے وفات مسیح ثابت کر دیں۔وہ عالم صاحب کہنے لگے کہ میں ان لوگوں کو کھینچ کھینچ کر قرآن سے باہر لا رہا ہوں، دوسری طرف لے کر جا رہا ہوں، تم انہیں پھر اُسی طرف لے آئے ہو، قرآنِ کریم سے تو ہم حیات مسیح ثابت ہی نہیں کر سکتے۔تو یہ تو ان کے پرانے طریقے کار ہیں۔(ماخوذ از تذکرۃ المہدی مؤلفہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی صفحہ 155 تا158 مطبوعہ قادیان ایڈیشن 1915) انصر عباس صاحب مبلغ ببینن لکھتے ہیں کہ آجاجی ذنبو مے (Ndjadji Zimbomy) میں 12 جولائی 2011ء نماز مغرب کے بعد تبلیغی پروگرام شروع ہوا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد اور آپ کے ذریعے سے اسلام کی ترقی بتائی گئی تو گاؤں والوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہم بھی اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں، وہیں جانا چاہتے ہیں جہاں اسلام کی ترقی ہو رہی ہے۔جن کے ذریعہ سے اسلام کی ترقی ہو رہی ہے ، چنانچہ اس مجلس میں 167 افراد نے بیعت کی توفیق پائی۔تو واپس جانے سے قبل ہمارے مربی صاحب نے ، معلم نے کہا کہ ہم پر سوں آئیں گے کیونکہ پرسوں جمعہ کا دن ہے اور آپ لوگوں کے ساتھ جمعہ پڑھیں گے۔یہ لوگ جنہوں نے بیعت کی یہ لوگ پہلے مسلمان تھے اور ان کی حالت کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ جب ہم نے کہا کہ پرسوں آئیں گے اور جمعہ پڑھیں گے ، تو اس بات پر گاؤں والوں نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ جمعہ کیا ہوتا ہے ؟ ہم نے تو کبھی جمعہ نہیں دیکھا، نہ کبھی پڑھا ہے ، پندرہ سال سے ہم مسلمان ہیں، آج تک کسی مولوی نے ہمارے کسی بڑے مذہبی لیڈر نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ جمعہ بھی پڑھا جاتا ہے۔چنانچہ جمعہ والے دن وہاں جا کر جمعہ پڑھایا گیا۔پھر ان لوگوں کاریفریشر کورس بھی کیا۔انہیں سمجھایا گیا کہ اصل اسلام کی تعلیم کیا ہے، جمعہ کیا ہے ؟ نماز کیا ہے ؟ عیدین کیا ہیں؟ باقی کیا عبادتیں ہیں، قرآن کریم کی کیا تعلیم ہے؟ بلکہ یہ لکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ والے گاؤں میں بھی لوگ احمدی ہوئے تھے ، انہیں بھی یہاں جمعہ پڑھنے کا کہا گیا کہ اگلی دفعہ یہاں جمعہ آکر پڑھیں تو یہ جواب ملا کہ ہمارے سالہا سال سے ان گاؤں والوں سے اختلافات چل رہے ہیں۔( پہلے گاؤں میں جہاں 167 آدمی بیعت کر کے شامل ہوئے، اُن سے ہمارے اختلافات چل رہے ہیں) نہ ہم کبھی وہاں گئے ہیں اور نہ ہی یہاں اُن کا آنا ہم پسند کرتے ہیں۔دونوں گاؤں کے بڑے پرانے اختلافات تھے۔پھر دونوں گاؤں والوں کو جو احمدی ہوئے تھے الگ الگ کر کے سمجھایا گیا کہ