خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 444
444 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بعض ویب سائٹس نے وسوسوں میں ڈالا ہوا ہے۔گو متاثر ہونے والے ایسے چند ایک لوگ ہیں لیکن لوگوں کے دلوں میں بہر حال وسوسے پیدا ہوتے ہیں، بے چینی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ امریکن نوجوان جو عیسائی تھا اس نے مخالف ویب سائٹس بھی دیکھیں پھر جماعت کی ویب سائٹ دیکھی اور موازنہ کیا، پھر دعا کی اور اس کے بعد اُس کے حقیقت سامنے آئی اور اُس نے احمدیت کے ذریعے سے اسلام قبول کر لیا۔تو ہمارے نوجوانوں کو ، بچوں کو خاص طور پر جو نئے نئے ابھی ٹین ایج (Teenage) میں ہوتے ہیں بعض دفعہ لوگ انہیں بھڑ کانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو دوستیوں کی وجہ سے اُن کو بھڑ کا یا جاتا ہے ، اُن کو بھی اللہ تعالیٰ سے دعامانگنی چاہیئے اور پھر دنیاوی لحاظ سے بھی کسی کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی تعلیم دلائل سے بھری ہوئی ہے کیونکہ یہ حقیقی اسلام کی تعلیم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں بھی اپنے دعوے کی سچائی کو ثابت کیا ہے کسی بھی پہلو سے ثابت کیا ہے وہاں دلیل سے ثابت کیا ہے، اس لئے کوئی کمپلیکس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ضرورت ہے تو ہمیں دینی علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح انصر عباس بھٹی صاحب مبلغ بین لکھتے ہیں کہ آلاڈا (Alada) ریجن کے گاؤں لوکولی (Lokoli) میں جلسہ نو مبائعین رکھا اور اس میں دورانِ تقریر لوگوں کو ایک مسلمان کی ذمہ داریاں بنانی شروع کیں۔جلسے کی اختتامی تقریب کے بعد ایک غیر احمدی مولوی وہاں آیا اور لوگوں کو بہکانے اور پھسلانے کی کوشش کی کہ اگر تم نے ان لوگوں کو مان لیا ہے، یہ جو لوگ احمدی ہیں تم سب نے آگ میں چلے جانا ہے۔یہ سب لوگ جہنمی ہو جائیں گے۔فوراً توبہ کا اعلان کرو اُس نے کہا کہ تمام ائمہ مسلمہ ان کو جہنمی قرار دیتے ہیں (مسلمان علماء جو ہیں، پڑھے لکھے لوگ جو ہیں، امام جو ہیں ، اور مسلمانوں کے جو لیڈر ہیں ، وہ احمدیوں کو جہنمی قرار دیتے ہیں) تو تم کس جہنم میں گرنے لگے ہو ؟ یا گر گئے ہو۔تم لوگ سب ان لوگوں کے ساتھ جہنمی ہو جاؤ گے۔پھر کہنے لگا کہ پاکستان کے مسلمان ان کو پسند نہیں کرتے ، وہاں بھی ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔اس پر ہمارے معلم صاحب نے سارے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مولوی صاحب ہمارے مہمان ہیں۔ہم ان کی عزت کرتے ہوئے ان سے صرف یہ پوچھتے ہیں کہ جو یہ کہہ رہے ہیں کیا خدا کے پاک کلام قرآن کریم سے یہ ثابت کر سکتے ہیں ؟ کیا قرآنِ کریم اس کی تصدیق کرتا ہے۔قرآن کو بنیاد بنا کر ہم بات کرتے ہیں۔اگر قرآن ان کا ساتھ دیتا ہے تو ہم سب ان کی بات مان لیں گے۔ہاں اگر قرآن ہمارے ساتھ رہتا ہے تو پھر ہم قرآن کو نہیں چھوڑ سکتے۔تو یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ مولوی صاحب جھٹ بولے، کہنے لگے کہ قرآن کو کیوں لیں۔بین کے تمام ائمہ آپ کو غلط کہتے ہیں تو ہمیں قرآن کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ آپ غلط ہیں بس کافی ہیں غلط ہیں کوئی دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔آپ لوگ جہنمی ہیں ( دیکھیں خود ہی فیصلہ کر دیا۔گویا خدا ابن بیٹھے ہیں)۔اس کو دیکھ کر ہمارے نو مبائعین جو تھے وہ جوش میں آ گئے۔وہاں اکثریت نو مبائعین کی تھی کہ اگر تمہیں قرآن کی ضرورت نہیں ہے تو ہمیں تمہاری بھی ضرورت نہیں ہے اور یہاں سے نکل جاؤ اور اُسے مسجد سے نکالنے کی کوشش کرنے لگے۔ہمارے معلم صاحب نے بڑا ان کو سمجھایا