خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 443
443 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم احمدیت کے ساتھ مضبوط رشتے میں جڑ گئے ہیں۔پس ان لوگوں کے لئے کوئی راستہ ہی نہیں ہے سوائے اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیروں اور تعلیم کے مطابق اسلامی احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور وہ تفسیریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآنِ کریم کی بیان کی ہیں، ان کو سنیں۔کیونکہ آج دنیا میں اس سے بہتر کوئی اور علم دے ہی نہیں سکتا۔پھر ہمارے ایک مبلغ ہیں ارشد محمود صاحب قرغزستان سے یہ بیان کرتے ہیں کہ جماعت قرغزستان کے نیشنل صدر سلامت صاحب کے ذریعہ Jildiz Abdullaeva صاحبہ (جو بھی نام ہے ان کا) نام کی ایک لڑکی نے بیعت کی۔وہ لڑکی قرغزستان میں موجود امریکن ہیں میں کام کرتی ہے۔وہاں اُس کے ساتھ کام کرنے والے ایک امریکن عیسائی نوجوان نے لڑکی کے نیک چال چلن اور باحیاء ہونے کی وجہ سے اس سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔لڑکی نے کہا کہ میں احمدی مسلمان ہوں اور اپنی جماعت سے پوچھ کر آپ کو کوئی جواب دوں گی۔چنانچہ وہ مشن ہاؤس آئی اُسے بتایا گیا کہ ایک مسلمان لڑکی غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتی۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔چنانچہ اس غیرت مند اور نیک فطرت نو مبائع بچی نے غیر مسلم امریکن کی شادی سے انکار کر دیا۔اُس کی پیشکش ٹھکرا دی۔اس عیسائی نوجوان نے جو اُس کا بڑا گرویدہ ہو ا ہوا تھا، کہا کہ اگر میں اسلام قبول کر لوں تو کیا پھر ہم شادی کر سکتے ہیں؟ تو لڑکی نے جواب میں کہا کہ اگر اسلام قبول کرنا ہے تو سچا دین سمجھ کر قبول کرو۔شادی کی خاطر قبول کرنا جو ہے یہ مجھے منظور نہیں ہے ، یعنی اگر تم اس لئے قبول کر رہے ہو تو تب میں شادی نہیں کروں گی۔ایک غریب ملک ہونے کی وجہ سے قرغزستان کی لڑکیاں غیر ملکیوں سے شادی کو ترجیح دیتی ہیں۔لیکن اس بچی نے احمدی ہونے کی وجہ سے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔اس کیتھولک عیسائی نوجوان نے مسلسل چھ ماہ تک تحقیقات کرنے اور جماعتی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد یکم جولائی 2011ء کو اسلام قبول کر کے ، بیعت کر کے احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شمولیت اختیار کی۔اس تحقیق کے سفر کے دوران (جب تحقیق کر رہا تھا یہ نوجوان) اس نوجوان نے احمدیت مخالف ویب سائٹس کو بھی دیکھا، وہاں جا کر بھی مطالعہ کیا۔اور آخر کار احمدیت یعنی حقیقی اسلام پر ہی اس کا دل مطمئن ہوا اور اُس کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت کی توفیق عطا فرمائی۔پس یہ پاک تبدیلی ہے اور یہی استقامت ہے جس کے لئے دعا کی جاتی ہے، دعا کی جانی چاہئے۔یہ لڑکی جو ہے نئی احمدی ہوئی، غربت بھی تھی، اچھا رشتہ مل رہا تھا اس کے لحاظ سے ، دنیا داری کے لحاظ سے ، لیکن اُس نے دین کی خاطر ٹھکرادیا۔اس میں اُن لوگوں کے لئے بھی لمحہ فکر یہ ہے کہ جب بعض بچیاں جو ایسے غیروں میں شادی کو پسند کرتی ہیں جو صرف شادی کی خاطر بیعت کر کے سلسلے میں شامل ہوتے ہیں۔اس لئے یہ قاعدہ بنا ہوا ہے کہ جب تک بیعت میں ایک سال نہ گزر جائے اور لڑکے کا اخلاص نہ دیکھ لیا جائے ہماری لڑکیوں کو عموماًنئے نو مبائعین سے شادی کی اجازت نہیں دی جاتی۔تا کہ یہ واضح ہو جائے کہ کہیں شادی کی خاطر تو بیعت نہیں کی ؟ بعض کمزور ایمان والوں کو ، کم علم کو (پہلے بھی جس کا میں گزشتہ دنوں میں دودفعہ ذکر کر چکاہوں)۔