خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد نهم 442 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2011ء قرآنِ کریم کا جو یہ اعلان ہے، یہ دعوی ہے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت: 46) کہ یقینا نماز بری اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے، آج بھی اپنی پوری آب و تاب سے پوری ہو رہی ہے اور اپنی سچائی کا اعلان کر رہی ہے۔یہ اعلان کہ جو لوگ خالص ہو کر نمازیں پڑھتے ہیں، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں، یہ نمازیں یقینا اُن کو برائیوں سے اور فحشاء سے اور ناپسندیدہ باتوں سے روکنے والی ہیں۔بلکہ قرآنِ کریم کا ہر دعویٰ ہر پیشگوئی جس طرح اس زمانے میں صحیح ثابت ہو رہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے لوگ ہیں اُن کے ذریعہ سے پوری ہو رہی ہیں وہ غیروں کو چاہے وہ مسلمان ہوں نظر نہیں آسکتیں۔پھر ایک نو مبائع کے تبلیغ کے شوق کے بارہ میں امیر صاحب غانا تحریر کرتے ہیں کہ جب ہم تبلیغ کے لئے اپر ایسٹ گئے تو بمباگو (Bimbaago) نامی جگہ پر ایک ٹیچر نے احمدیت کی تعلیم سے متاثر ہو کر بیعت کر لی۔اس کے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ کچھ عرصے کے بعد بولگا (Bolga( وہاں پر ایک شہر کا نام ہے ، نارتھ میں بڑا شہر ہے) بولگا میں خدام کا نیشنل اجتماع ہوا ( وہ جو ٹیچر تھا جس نے بیعت کی) اپنے ساتھ میں اساتذہ کو لے کر اس اجتماع میں شامل ہوا اور سب لوگ پہلے ہی اُس کی تبلیغ سے احمدی ہو چکے تھے۔تو دیکھیں کہ نہ صرف یہ کہ بیعت کی اور اپنی اصلاح کی بلکہ اُن لوگوں میں تبلیغ کا بھی ایک شوق ہے، ایک لگن ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتیں بڑھ رہی ہیں۔پھر برکینا فاسو کے ریجن کو پیلا میں سانہ سلیمان ایک احمدی خادم اور اُن کے تین بھائی احمدیت کی آغوش میں ہیں، ان کے والد جماعت کے شدید مخالف ہیں اور اکثر جماعت کی مخالفت میں اندھے ہو جاتے ہیں اور اپنے بچوں کو گالیاں دیتے ہیں اور گھر سے نکال دیتے ہیں۔وہاں برکینا فاسو میں ہماری جماعت کے کئی ریڈیو سٹیشن بھی چل رہے ہیں اور جو دوسرے ریڈیو سٹیشن ہیں ان میں بھی جماعتی پروگرام کچھ گھنٹوں کے لئے نشر ہوتے ہیں۔تو ایک روز ان کے ( ان تین بچوں کے والد نے ریڈیو لگایا تو اسلام کی تعلیم پر ایک خوبصورت درس جاری تھا۔اس درس کو سننے کے بعد ان بچوں کے والد اتنے متاثر ہوئے کہ سب بچوں کو بلایا اور کہا کہ دیکھو تم جو کافروں کے ساتھ ملے ہوئے ہو ، یعنی احمدیوں کو کافر کہا) کہ باز آجاؤ اور اس پروگرام کو سنو جو ریڈیو پر آرہا ہے۔کتنا خوبصورت پروگرام ہے ، یہ ہیں اصل اللہ والوں کے الفاظ۔والد صاحب کہنے لگے کہ یہ اصل اللہ والوں کے الفاظ ہیں جو دل میں گھر کر جاتے ہیں، دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔یہ پیغام سنو ، یہ اللہ والوں کا پیغام ہے تم کیوں احمدیوں کی طرف جھکے ہوئے ہو اور اُن کی باتیں سنتے ہو اور اُن سے متاثر ہو کر اُن میں شامل ہو گئے ہو۔پھر ان کے والد صاحب کہتے ہیں سنو یہ ہے اسلام۔تو یہ والد صاحب اس بات کو بالکل نہیں جانتے تھے کہ یہ وقت جماعتی ریڈیو پر جماعتی پروگرام کا ہے۔پروگرام گورنمنٹ کے ریڈیو پر آرہا تھا۔لیکن جب پروگرام کے آخر پر تعارفی نظم احمدیت زندہ باد، احمدیت زندہ باد گونجی تو یہ سنا تھا کہ فوراً موصوف نے ریڈیو بند کر دیا۔اس پر بچوں نے ان کو کہا کہ ابا جان! واقعی آپ صحیح کہتے تھے یہی اصل اللہ والے لوگ ہیں جن کے الفاظ دل میں گھر کر جاتے ہیں اس لئے ہم آج پہلے سے بھی زیادہ