خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 434

66 434 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم پر قائم کر “۔(استقامت وہ رستہ جس پر مستقل مزاجی سے انسان چلے اور ہدایت یافتہ ہو۔تو آپ نے فرمایا کہ اس لئے اسلام کا نام اس حوالے سے قرآنِ کریم میں استقامت ہے)۔اس کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” یعنی ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر ان لوگوں کی راہ جنہوں نے تجھ سے انعام پایا اور جن پر آسمانی دروازے کھلے“۔فرماتے ہیں کہ ”واضح رہے کہ ہر ایک چیز کی وضع استقامت اس کی علت غائی پر نظر کر کے سمجھی جاتی ہے“۔( اس کی وجہ ، اصل وجہ جو ہے اُس پر غور کر کے سمجھی جاتی ہے)۔”اور انسان کے وجود کی علت غائی یہ ہے“۔(انسان کے وجود کا مقصد کیا ہے؟ کہ نوع انسان خدا کے لئے پیدا کی گئی ہے“۔( انسان جو ہے وہ خدا تعالیٰ کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اُس کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے)۔پس انسانی وضع استقامت یہ ہے کہ جیسا کہ وہ اطاعت ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ایسا ہی وہ در حقیقت خدا کے لئے ہو جائے۔اور جب وہ اپنے تمام قومی سے خدا کے لئے ہو جائے گا تو بلاشبہ اس پر انعام نازل ہو گا جس کو دوسرے لفظوں میں پاک زندگی کہہ سکتے ہیں۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب آفتاب کی طرف کی کھڑ کی کھولی جائے تو آفتاب کی شعاعیں ضرور کھڑکی کے اندر آجاتی ہیں۔ایسا ہی جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف بالکل سیدھا ہو جائے اور اس میں اور خدا تعالیٰ میں کچھ حجاب نہ رہے تب فی الفور ایک نورانی شعلہ اس پر نازل ہو تا ہے اور اس کو منور کر دیتا ہے اور اس کی تمام اندرونی غلاظت دھو دیتا ہے۔تب وہ ایک نیا انسان ہو جاتا ہے اور ایک بھاری تبدیلی اسکے اندر پیدا ہوتی ہے۔تب کہا جاتا ہے کہ اس شخص کو پاک زندگی حاصل ہوئی۔اس پاک زندگی کے پانے کا مقام یہی دنیا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا (بنی اسرائیل: 73)۔یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا رہا اور اور خدا کے دیکھنے کا اُس کو نور نہ ملا وہ اُس جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا“۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 345،344) پھر آپ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) کی دعا کی قبولیت کے لئے کن پہلوؤں کو مد نظر رکھنا چاہئے، فرماتے ہیں کہ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں تمام مسلمانوں کو لازم ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا لحاظ رکھیں۔کیونکہ ايَّاكَ نَعْبُدُ کو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم رکھا ہے۔پس پہلے عملی طور پر شکریہ کرنا چاہئے اور یہی مطلب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں رکھا ہے“۔عملی شکر جو ہے اُس کی تفسیر اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم ہے یا اس میں اس کی وضاحت آئی ہے۔یعنی دعا سے پہلے اسباب ظاہری کی نگہداشت ضروری طور پر کی جاوے اور پھر دعا کی طرف رجوع ہو۔اولاً عقائد، اخلاق اور عادات کی اصلاح ہو پھر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم ( پہلے اپنے عقیدے درست کرو۔بدعات اور غلط قسم کی جو چیزیں رواج پاگئی ہیں اُن کو چھوڑو۔اُس عقیدے پر قائم ہو جو حقیقی اسلامی عقیدہ ہے پھر اپنے اخلاق بہتر کرو۔اپنے عمل صحیح کرو۔اُن کی اصلاح ہو جائے تو پھر اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا ہو۔تب ہی اللہ تعالیٰ پھر اس کو قبول فرماتا ہے۔فرمایا ” اِھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا تعلیم کرنے میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ انسان تین پہلو ضرور مد نظر رکھے۔اول اخلاقی حالت۔دوم حالتِ عقائد۔سوم اعمال کی حالت۔مجموعی طور پر یوں کہو کہ انسان