خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 431
431 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011ء انسان کے راستے میں مختلف طریق سے ورغلانے کے لئے شیطان بیٹھا ہوا ہے اگر دل سے نکلی ہوئی اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) کی دعا ہو تو یہ دعا پھر شیطان کے حملوں سے بچاتی ہے۔ان کو ایمان پر قائم رکھتی۔آجکل جب دنیا مذ ہب سے دور ہو رہی ہے، یہ دعا بہت بڑی دعا ہے جو ایک انسان کو سیدھے راستے پر قائم رکھ سکتی ہے بشر طیکہ جیسا کہ پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ انسان مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ سے مدد کا طالب رہے ، بلکہ اگر خالص ہو کر کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اگر اللہ تعالی سے رہنمائی چاہے تو اللہ تعالیٰ صحیح دین کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔بلکہ لامذہبوں کی بھی رہنمائی فرماتا ہے۔اُن کے لئے بھی یہ ہدایت کا ذریعہ بن جاتی ہے بشر طیکہ نیت نیک ہو۔آپ نے فرمایا کہ: نبیوں نے خدائے رحمان کی محبت اس دعا کے ذریعہ سے حاصل کی ہے۔پس کسی بھی مرتبے کا انسان ہو، کوئی بھی شخص ہو جتنی زیادہ آہ وزاری سے یہ دعا مانگے گا خدا تعالیٰ اُس کو خیر و برکت میں بڑھائے گا۔پس ایک مومن کہلانے کا دعویٰ کرنے والے کے لئے یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں کہ وہ اس دعا سے غفلت برتے بلکہ نبیوں اور رسولوں کے لئے بھی یہ دعا ضروری ہے کیونکہ رُشد و ہدایت کے مراتب اور معیار کبھی ختم نہیں ہوتے۔ہر انسان کا جس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے اُس کا رشد و ہدایت کا ایک مرتبہ ہے اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی کوئی حد نہیں اس لئے ہدایت کے اگلے مرحلوں کی تلاش بھی ایک مومن کے لئے ضروری ہے۔ایک جگہ پر پہنچ کر پھر اگلے مرحلے کو تلاش کرنا چاہئے اور اُس کی تلاش کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا سکھائی ہے کہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6)- فرمایا کہ : توحید بھی اس دعا کے ذریعہ مکمل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے، اُس کے بتائے ہوئے ہدایت کے راستوں پر چلنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس ہی جایا جاتا ہے۔اسی سے مددمانگی جاتی ہے۔وہی ہے جو ہمیں ہدایت یافتوں میں رکھ سکتا ہے نہ کہ کوئی غیر۔پس یہ دعا ہر مرتبے کے انسان کے لئے ضروری ہے۔ہر اُس شخص کے لئے ضروری ہے جو خدا کی بتائی ہوئی ہدایت کی تلاش میں ہے اور اُس کے اعلیٰ مدارج حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔آپ نے فرمایا کہ حقیقی مومن وہی ہے جو مستقل مزاجی سے اور ایک درد کے ساتھ اس دعا کو کرنے والا ہے۔پس جب یہ دعا ہر مرتبہ کے لوگوں کے لئے ضروری ہے تو اس کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔اس اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ : ساتویں صداقت جو سورہ فاتحہ میں درج ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہم کو وہ راستہ دکھلا اور اس راہ پر ہم کو ثابت اور قائم کر کہ جو سیدھا ہے جس میں کسی نوع کی کبھی نہیں۔اس صداقت کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کی حقیقی دعا یہی ہے کہ وہ خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ طلب کرے کیونکہ ہر یک مطلوب کے حاصل کرنے کے لئے طبعی قاعدہ یہ ہے کہ ان وسائل کو حاصل کیا جائے جن کے ذریعہ سے وہ مطلب ملتا ہے اور خدا نے ہر یک امر کی تحصیل کے لئے یہی قانون قدرت ٹھہر ارکھا ہے کہ جو اس کے حصول کے