خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 424
خطبات مسرور جلد نهم 424 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء جب کوشش بھی ہو اور دعا بھی ہو تو پھر اگر کسی کمزوری کی وجہ سے لغزش ہوتی ہے، کوئی گناہ سر زد ہوتا ہے یا ہونے لگتا ہے تو فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ اُسے بچالیتا ہے۔پس جب اپنی طرف سے پوری کوشش ہو اور اس کے ساتھ دعا ہو تو خدا تعالی گناہوں سے نفرت بھی پیدا کرتا ہے اور اُن کے بد نتائج سے بھی بچا لیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی صفات الْحَى اور القیوم کا تعلق إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ: 5) سے جوڑتے ہوئے د, آپ فرماتے ہیں کہ : جانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کئے ہیں الْحَيُّ اور الْقَيُّومُ الْحَقُّ کے معنے ہیں خود زندہ اور دوسروں کو زندگی عطا کرنے والا۔القیوم خود قائم ہے اور دوسروں کے قیام کا اصلی باعث۔ہر ایک چیز کا ظاہری باطنی قیام اور زندگی انہیں دونوں صفات کے طفیل سے ہے۔پس حتی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے اور الْقَيُّومُ چاہتا ہے کہ اس سے سہارا طلب کیا جاوے۔اس کو اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 160 مطبوعہ ربوہ ) ( الحکم - 17 مارچ 1902ء جلد 6 نمبر 10 صفحہ 5 کالم 1) پس چاہے دنیاوی معاملات اور ترقیات ہیں یا روحانی معاملات اور ترقیات ہیں اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن کر ہی انسان ان سے فیضیاب ہو سکتا ہے۔دنیا و آخرت کی نعمتوں کا وارث بن سکتا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ رحمانیت پر شکر گزاری عبادت کی طرف راغب کرتی ہے اور رحیمیت کی طالب ہوتی ہے اور طلب ہی یہ ہے وہ استعانت ہے، مدد ہے۔اور جیسا کہ مضمون سے ظاہر ہے، یہ دنیاوی معاملات پر بھی حاوی ہے اور روحانی معاملات پر بھی حاوی ہے۔جیسا کہ میں نے شروع میں بیان کیا تھا کہ نماز جو عبادت کا مغز ہے اُس کی اہمیت کے بارے میں وضاحت فرماتے ہوئے ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اور سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ انسان التزام کے ساتھ پانچوں نمازیں اُن کے اول وقت پر ادا کرنے اور فرض اور سنتوں کی ادائیگی پر مداومت رکھتا ہو اور حضورِ قلب ، ذوق، شوق اور عبادت کی برکات کے حصول میں پوری طرح کوشاں رہے کیونکہ نماز ایک ایسی سواری ہے جو بندہ کو پروردگارِ عالم تک پہنچاتی ہے۔اس کے ذریعے (انسان) ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں گھوڑوں کی پیٹھوں پر بیٹھ کر) نہ پہنچ سکتا۔اور نماز کا شکار، ثمرات یعنی اُس کے جو پھل ہیں) تیروں سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔اس کا راز قلموں سے ظاہر نہیں ہو سکتا۔(لکھنے سے اور پڑھنے سے نہیں مل سکتا)۔اور جس شخص نے اس طریق کو لازم پکڑا اس نے حق اور حقیقت کو پالیا اور اس محبوب تک پہنچ گیا جو غیب کے پردوں میں ہے اور شک و شبہ سے نجات حاصل کر لی۔پس تو دیکھے گا کہ اُس کے دن روشن ہیں، اُس کی باتیں موتیوں کی مانند ہیں اور اس کا چہرہ چودھویں کا چاند ہے ، اس کا مقام صدر نشینی ہے۔جو نص نماز میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی سے جھکتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے بادشاہوں کو جھکا دیتا ہے اور اُس مملوک بندہ کو مالک بنادیتا ہے“۔( اعجاز المسیح روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحه 165-167) ( ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 201-202) یہ بھی اعجاز المسیح کا عربی حوالہ ہے ، اس کا ترجمہ ہے۔نماز بیشک افضل عبادت تو ہے، بندے کو خدا کے قریب کرنے کا ذریعہ بھی ہے لیکن بعض لوگوں کو اللہ