خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 420 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 420

420 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم رہنا چاہئے کیونکہ دعا کی قبولیت کی بھی ایک گھڑی ہے پتہ نہیں کب دعا قبول ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کو کب کوئی ادا پسند آجائے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه : 5 ) ( یعنی ) جو لوگ اپنے رب کے آگے انکسار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی عاجزی منظور ہو جاوے تو انکا اللہ خود مددگار ہو جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 374 مطبوعہ ربوہ) پس بندے کا کام عاجزی اور انکسار سے دعا کرتے چلے جانا ہے، اُس سے مدد مانگتے چلے جانا۔ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ”استعانت کے متعلق یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اصل استمداد کا حق اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی پر قرآن کریم نے زور دیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ “ ( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 340 مطبوعہ ربوہ) (ماخوذ از الحکم 24 جولائی 1902ء صفحہ 5 جلد 6 نمبر 26 کالم 2) پس یہ نکتہ ہے جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ مستقل مزاجی اور تکرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد اُس کے حضور کھڑے ہو کر مانگی جائے ، اس سے مستقل مانگتے چلے جائیں۔ایک واقعہ ہے ، حضرت مسیح موعود کے ایک صحابی تھے ( نام مجھے یاد نہیں رہا) لیکن بہر حال لکھنے والے لکھتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ ہمیں بچیس منٹ سے وہ نماز میں کھڑے ہیں، مسجد اقصیٰ قادیان میں نفل پڑھ رہے تھے ، نیت باندھی ہوئی ہے ، ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔تو مجھے شوق پیدا ہوا کہ قریب جا کر دیکھوں کیونکہ ہلکی سی آواز بھی اُن کی آرہی تھی۔جب میں قریب گیا تو کہتے ہیں پندرہ منٹ وہاں ساتھ بیٹھا رہا ہوں اور ہلکی آواز میں وہ صرف ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہی پڑھتے چلے گئے۔تو یہ عرفان تھا جو ان لوگوں کو حاصل ہو ا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پائی۔(ماخوذ از سیرت حضرت مولانا شیر علی صاحب صفحہ 190-191 مرتبہ ملک نذیر احمد ریاض صاحب) پس یہ فہم اور ادراک ہے اور یہ عرفان ہے جو ہر مومن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسی سے عبودیت کا حق ادا ہو تا ہے۔پھر آپ یہ بیان فرماتے ہوئے کہ عبودیت کا حق کس طرح ادا ہو سکتا ہے۔فرماتے ہیں کہ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تمام کی تمام سعادت خدائے رب العالمین کی صفات کی پیروی کرنے میں ہے“ (تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اوّل صفحہ 197) ( یا اُس کو اپنانے میں ہے)۔پس جب بندہ تکرار سے یہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے آپ کو اُس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی بھی ضرورت ہے ورنہ تو یہ دہرانا ہے اور طوطے کی طرح رٹے ہوئے الفاظ کو بولنا ہی ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی اس کا عرفان حاصل کیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں جو رہے انہوں نے عرفان حاصل کیا، اللہ کے فضل سے جماعت میں اب بھی ہیں جو اس چیز کو سمجھتے ہیں اور اس طرح دعا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔پھر چونکہ ان درجات کے حصول میں بڑی روک ریا کاری ہے۔( درجات کے حصول میں بڑی روک