خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 419

419 خطبات مسرور جلد نهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء پھر آپ فرماتے ہیں کہ اس دعا میں تدبیر اور دعا کو جمع کر دیا ہے کیونکہ مومن تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیتے ہیں۔کیونکہ بغیر تدبیر کے دعا کوئی چیز نہیں اور بغیر دعا کے تدبیر کوئی چیز نہیں۔فرمایا ” تدبیر اور دعا دونوں (کو) باہم ملا دینا اسلام ہے ، اسی واسطے میں نے کہا ہے کہ گناہ اور غفلت سے بچنے کے لئے اس قدر تدبیر کرے جو تدبیر کا حق ہے اور اس قدر دعا کرے جو دعا کا حق ہے۔اسی واسطے قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ فاتحہ میں ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھ کر فرمایا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه : 5)۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ اسی اصل تدبیر کو بتاتا ہے اور مقدم اسی کو کیا ہے کہ پہلے انسان رعایت اسباب اور تدبیر کا حق ادا کرے مگر اس کے ساتھ ہی دعا کے پہلو کو چھوڑ نہ دے بلکہ تدبیر کے ساتھ ہی اس کو مد نظر رکھے۔مومن جب اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو معاً اس کے دل میں گذرتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں جب تک اُس کا فضل اور کرم نہ ہو۔اس لئے وہ معا کہتا ہے اِيَّاكَ نَستَعینُ۔مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔یہ ایک نازک مسئلہ ہے جس کو بجز اسلام کے اور کسی مذہب نے نہیں سمجھا“۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 521 مطبوعہ ربوہ) (الحکم 10 فروری 1904ء صفحہ 2 جلد 8 نمبر 5 کالم 1)( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 194) فرمایا کہ ”مومن۔۔۔تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیتا ہے، پوری تدبیر کرتا ہے اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑ کر دعا کرتا ہے اور یہی تعلیم قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ میں دی گئی ہے۔چنانچہ فرمایا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ:5)۔جو شخص اپنے قوی سے کام نہیں لیتا ہے وہ نہ صرف اپنے قویٰ کو ضائع کرتا اور اُن کی بے حرمتی کرتا ہے بلکہ وہ گناہ کرتا ہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 569-570 مطبوعہ ربوہ) پوری تدبیر اگر نہیں کرتا اور صرف اس بات پر ہی راضی ہو کہ میں دعا کر رہا ہوں اور دعا سے مسئلے حل ہو جائیں گے تو فرمایا کہ یہ بھی گناہ ہے۔فرمایا کہ ” انسان میں نیکی کا خیال ضرور ہے۔پس اس خیال کے واسطے اس کو امداد الہی کی بہت ضرورت ہے۔اسی لئے پنجوقتہ نماز میں سورۃ فاتحہ کے پڑھنے کا حکم دیا۔اُس میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ (فرمایا) اور پھر اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی عبادت بھی تیری ہی کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔یعنی ہر نیک کام میں قوی، تدابیر ، جدوجہد سے کام لیں۔یہ اشارہ ہے نَعبُدُ کی طرف۔کیونکہ جو شخص نری دعا کرتا اور جد وجہد نہیں کرتا وہ بہرہ یاب نہیں ہو تا۔جیسے کسان بیج بو کر اگر جد وجہد نہ کرے تو پھل کا امید وار کیسے بن سکتا ہے اور یہ سنت اللہ ہے۔اگر بیج بو کر صرف دعا کرتے ہیں تو ضرور محروم رہیں گے۔“ ( ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 174 مطبوعہ ربوہ) اب زمیندار جانتے ہیں کہ بیج بونے کے بعد کھاد دینی بھی ضروری ہے پانی دینا بھی ضروری ہے۔جڑی بوٹیاں بھی نکالنا ضروری ہے۔جنگلی جانوروں سے حفاظت بھی ضروری ہے۔پس یہ قانونِ قدرت ہر جگہ پر لاگو ہے اور یہاں بھی ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس کو جس خوبصورتی سے اسلام نے بیان فرمایا ہے کسی اور مذہب نے بیان نہیں فرمایا۔پھر آپ اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ اس دعا کو مستقل مزاجی سے کرتے