خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 36
36 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم غرض کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے عمل سے بھی اور اپنی تحریر و تقریر سے بھی دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی عشق رسول اور غیرتِ رسول کیا ہے ؟ اور پھر اپنی جماعت میں بھی یہی روح پھونکی۔یہ غیرت رسول دکھاؤ، لیکن قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ہر کارروائی کرو لیکن قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔چنانچہ اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ جب آنحضرت صلی ال نیم کے بارے میں ایک دل آزار کتاب ایک آریہ نے لکھی اور پھر در تمان جو رسالہ تھا اس میں بعد میں ایک مضمون بھی شائع کیا تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس کے رڈ کے لئے ہر قسم کی کوشش کی۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی نصیحت فرمائی کہ مسلمان کو چاہئے کہ رسول کریم صلی نیم کی عزت کو بچانے کے لئے غیرت دکھائیں مگر ساتھ ہی یہ بھی دکھا دیں کہ ہر ایک مسلمان اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اس سے مغلوب نہیں ہو تا۔جب مسلمان یہ دکھا دیں گے تو دنیا ان کے مقابلہ سے خود بخود بھاگ جائے گی“۔(الفضل 5 جولائی 1927ء صفحہ 7۔بحوالہ سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 41) اسی دوران آپ نے ایک پوسٹر بھی شائع کروایا۔اس کے الفاظ دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کس قدر غیرت کا مظاہرہ آپ نے فرمایا اور مسلمانوں کو بھی غیرت دکھانے پر آمادہ کیا۔جب آنحضرت صلی علی کم پر یہ اعتراضات ہو رہے تھے تو آپ نے اس میں فرمایا کہ کیا اس سے زیادہ اسلام کے لئے کوئی اور مصیبت کا دن آ سکتا ہے؟ کیا اس سے زیادہ ہماری بیکسی کوئی اور صورت اختیار کر سکتی ہے ؟ کیا ہمارے ہمسایوں کو یہ معلوم نہیں کہ ہم رسولِ کریم صل ا لم فَدَادُ نَفْسِي وَ أَهْلِي کو اپنی ساری جان اور سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اس پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے۔اگر وہ اس امر سے واقف ہیں تو پھر اس قسم کی تحریرات سے سوائے اس کے اور کیا غرض ہو سکتی ہے کہ ہمارے دلوں کو زخمی کیا جائے اور ہمارے سینوں کو چھیدا جائے اور ہماری ذلت اور بے بسی کو نہایت بھیانک صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور ہم پر ظاہر کیا جائے کہ مسلمانوں کے احساسات کی ان لوگوں کو اس قدر بھی پر واہ نہیں جس قدر کہ ایک امیر کبیر کو ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی ہوتی ہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کو ستانے کے لئے ان لوگوں کو کوئی اور راستہ نہیں ملتا ؟۔ہماری جانیں حاضر ہیں۔ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں۔جس قدر چاہیں ہمیں دکھ دے لیں لیکن خدا را نبیوں کے سردار کی ہتک کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ نہ کریں کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم بھی صلح نہیں کر سکتے۔ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ان لوگوں سے ہر گز صلح نہیں ہو سکتی جو رسولِ کریم صلی ای کم کو گالیاں دینے والے ہیں۔بے شک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کر لیں اور پنجاب ہائی کورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں ( اس وقت فیصلہ ہوا تھا جو مسلمانوں کے خلاف ہوا تھا) جس قدر چاہیں ہمارے رسول کریم صلی اللہ ہم کو گالیاں دے لیں۔لیکن وہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہوا قانونِ فطرت ہے۔وہ اپنی طاقت کی بنا پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانونِ قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے۔اور قانونِ قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوتی ہے اس کو برا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا۔( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 597 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)