خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 410

خطبات مسرور جلد نهم 410 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء پس یہ رمضان ہمیں انہیں باتوں کی ٹریننگ دینے اور ہمیں حقیقی عبد بننے کے معیار حاصل کرنے اور اپنے ایمانوں میں مضبوطی اور جلا پیدا کرنے کے لئے آیا ہے۔پس ہم خوش قسمت ہوں گے اگر اس سے بھر پور فائدہ اٹھاویں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آج دنیا کو فسادوں سے بچانے اور تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لئے کسی دنیاوی سازوسامان کی ضرورت نہیں جیسا کہ میں نے کہا اور نہ وہ کام آسکتا ہے۔صرف اور صرف ایک ہتھیار کی ضرورت ہے اور وہ دعا کا ہتھیار ہے۔پس اس رمضان میں جہاں اپنے لئے ، اپنی نسلوں کے ایمان اور تعلق باللہ کے لئے دعائیں کریں اس دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے بھی دعائیں کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ اُن کا خداد عاؤں کا سننے والا ہے”۔( ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 148 مطبوعہ ربوہ) لیکن اس بات کا حقیقی ادراک بھی آج صرف احمدیوں کو ہی ہے۔پس جب ہمارا خدا دعاؤں کا سننے والا ہے تو مایوسی کی کوئی وجہ نہیں اور یقینا مایوس نہیں اور اس یقین پر قائم ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ وہ تمام باتیں ضرور پوری ہوں گی جو جماعت کی ترقی سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتائی ہیں۔انشاء اللہ۔اور یقیناوہ دن انشاء اللہ آئیں گے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا پر لہرائے گا۔اور خدا تعالیٰ کے ان بندوں کی اکثریت ہو گی جو رُشد و ہدایت پانے والے ہوتے ہیں۔پھر میں یاد دہانی کرواتا ہوں کہ اس دعا کو کبھی نہ بھولیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اُن بندوں میں شامل رکھے جو اُس کے ہدایت یافتہ اور خالص بندے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس رمضان کے فیض سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔آج پھر میں نماز جمعہ کے بعد کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ مکرم صو بیدار ریٹائر ڈ راجہ محمد مرزاخان صاحب ربوہ کا ہے جن کی 4 اگست کو نوے سال کی عمر میں وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ یہ فوج میں رہے اور دوسری جنگ عظیم میں بھی فوج میں تھے۔پھر پاکستان بننے سے کچھ عرصہ قبل حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر قادیان آگئے ، وہاں رہے اور آپ کی صحبت سے فیض پاتے رہے۔فرقان بٹالین میں بھی آپ کو خدمت کی توفیق ملی اور 1953ء میں بھی بعض اہم کام انجام دینے کی توفیق ملی۔تہجد گزار، تلاوت کے پابند، نمازوں کی پابندی اور قناعت شعار ، قناعت کرنے والے اور متوکل انسان تھے اور دعوت الی اللہ کا بھی آپ میں ایک جوش تھا۔خلافت سے بڑا تعلق تھا اور ہر پروگرام کو جو خلیفہ وقت کا ہو تا تھا بڑے غور سے دیکھتے، سنتے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔موصی تھے۔ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ایک بیٹے راجہ منیر احمد صاحب جامعہ احمد یہ ربوہ کے جو نیئر سیکشن کے پرنسپل ہیں اور دوسرے راجہ محمد یوسف صاحب جرمنی کے امورِ خارجہ کے سیکر ٹری ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔