خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 406
406 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم حالت کو سنوارنے کے لئے صرف ایک ہی طریقہ ہے جو اس زمانہ کے امام نے ہمیں بتایا ہے کہ جہاں اس امن کا پیغام پہنچاؤ وہاں دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی مدد بھی چاہو۔دعاؤں کی طرف زیادہ زور دو۔جہاں کوششیں کرو وہاں کوششوں سے زیادہ دعاؤں پر انحصار کرو۔لیکن جیسا کہ پہلے بھی میں نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور دعاؤں کی قبولیت انہیں ہی ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کر نیوالے اور اللہ پر اپنے ایمان کو مضبوط کرنے والے ہیں۔دعاؤں کی قبولیت کے جو طریق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتائے ہیں، اُن میں سے بعض کو مختصراً پیش کرتا ہوں۔وہ کونسی باتیں ہیں جن پر لبیک کہلوا کر ، اللہ تعالیٰ دعاؤں کے سننے اور جواب دینے کا فرماتا ہے۔وہ کس قسم کا ایمان ہے جو ہدایت کے راستوں کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے بندے اور خدا کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ایک شرط جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے کہ انسان تقویٰ پر چلنے والا ہو(ماخوذاز ملفوظات جلد 1 صفحہ 535 مطبوعہ ربوہ )۔خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت ہر وقت اُس کے سامنے رہے۔ہر وقت یہ سامنے رہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔میرا ہر حرکت و سکون اُس کے سامنے ہے۔میرا کوئی عمل ایسا نہیں ہونا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہو۔جسمانی اعضاء بھی خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق عمل کرنے والے ہوں اور تمام اخلاق اور مخلوق سے تعلق بھی خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہو۔اور یہی اصل تقویٰ ہے کہ انسان کی آنکھ ، کان ، ناک، زبان، ہاتھ ، پاؤں سب وہ حرکت کر رہے ہوں جو خد اتعالیٰ کو پسندیدہ ہیں۔اور یہ اُس وقت ہو سکتا ہے جب خدا تعالیٰ کے وجود پر کامل یقین ہو۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر کامل یقین پیدا کرو۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اہم بات یہ بھی فرمائی کہ دعاؤں کی قبولیت کے لئے خدا تعالیٰ کے وجود پر کامل یقین ضروری ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 522 مطبوعہ ربوہ) پھر اس بات پر یقین کہ اگر خدا تعالیٰ ہے اور یہ زمین و آسمان اور یہ کائنات اور تمام کائناتیں اور ہر وہ چیز جس کا ہمیں علم ہے یا نہیں، اُس کا پیدا کرنے والا خدا ہے اور صرف پیدا کرنے والا ہی نہیں بلکہ وہ تمام قدرتوں کا مالک بھی ہے ، وہ تمام طاقتوں اور قدرتوں کا سر چشمہ بھی ہے۔وہ قدرت رکھتا ہے کہ جس چیز کو پیدا کیا اس کو فنا بھی کر سکے۔وہ قدرت رکھتا ہے کہ جس چیز کو چاہے وہ پیدا کر دے۔وہ زندگی دینے والا بھی ہے اور موت دینے والا بھی ہے۔مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور زندوں کو مارنے والا ہے۔اور دعاؤں کے ذریعہ سے وہ ایسا انقلاب پیدا کرنے والا ہے جو مر دوں میں نئی روح پھونک دیتی ہیں اور تب یہ ایمان ہو گا کہ وہ سب قدرت رکھتا ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو سن کر قبول کرے، اور وہ کرتا ہے اُن دعاؤں کو جسے وہ بہتر سمجھتا ہے۔(ماخوذاز ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 267 مطبوعہ ربوہ) آپ نے فرمایا کہ: ” ان دعاؤں کو سن کر قبول کرتا ہے جسے وہ بہتر سمجھتا ہے“۔پھر دعا کے لوازمات میں سے یہ بھی لازمی امر ہے کہ ”اس میں رفت ہو۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 397 مطبوعہ ربوہ) جب دعا کی جائے صرف زبانی تھوڑے سے الفاظ دہرا کر نماز سے یاد عاؤں سے فارغ نہ ہو جاؤ، بلکہ ایک