خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 401
401 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم اور رکھتا ہے کہ اس زمانہ میں جب دنیا اپنے پیدا کرنے والے اور اس زمین و آسمان کے خالق کو بھول رہی ہے یا اُس کی ہستی کا مکمل فہم و ادراک نہیں رکھتی، اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کے اظہار کے لئے ، زمانے کو فساد کی حالت سے نکالنے کے لئے، بندے کو خدا کے قریب کرنے کے لئے ایک امام الزمان کو بھیجا ہے۔اور یہ طبقہ یا گر وہ یا جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم احمدیوں کا ہے۔لیکن کیا اس پر ایمان اور اس یقین پر قائم ہو جانا کہ اللہ تعالیٰ نے بھیجنے والے کو بھیج دیا، کافی ہے ؟ اور اب وہ آنے والا یا اس کے چند حواری ہی خالق و مخلوق کا تعلق جوڑنے اور دنیا کے فسادوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے ؟ اگر ہم احمدیوں کی یہ سوچ ہے تو ہماری سوچ بھی اُن لوگوں کے قریب ہے جو صرف ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والے اور عبادتوں کا دعویٰ کرنے والے ہیں، لیکن عمل سے دور ہیں۔اگر ہماری اپنی حالتوں پر نظر نہیں، اگر ہم اپنے خدا سے زندہ تعلق پیدا کرنے والے نہیں۔اگر ہم اپنی نسلوں اور اپنے ماحول کو اس آنے والے کے پیغام سے روشناس کروانے والے نہیں اور اُس سے آگاہی دلانے والے نہیں تو پھر ہم نے بھی پا کر کھو دیا۔ہم نے دنیا کی دشمنیاں بھی مول لیں اور خدا کو بھی نہ پایا۔پس احمدی ہونے کے بعد ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد اُس روح کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہو گی جو ایک حقیقی عبد رحمان میں ہونی چاہئے۔اُن معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہو گی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا کرنے آئے تھے اور جن کے اُمت کے اندر سے نکل جانے کی خبر جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ کو امت کے بارے میں فکر پیدا ہوئی، تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو پریشان دیکھتے ہوئے اور آپ کی دعاؤں کو امت کے حق میں قبول کرتے ہوئے فرمایا۔وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة: 4)۔اور ان کے سوا ایک دوسری قوم بھی ہے جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی یہ کہہ کر دور فرما دی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُس جاہل اور مشرک قوم کو باخدا انسان بنا دیا تھا، جس طرح عیاشیوں میں پڑے ہوئے اور خدا کے وجو د سے بے بہرہ عبادتوں کے معیار حاصل کرنے والے بن گئے تھے اسی طرح اُمت کے بگڑنے کے باوجود اخرین میں تیرا ایک عاشق صادق پیدا کر کے اُس کے ذریعہ پھر وہ عبادالرحمن بناؤں گا جو میری بندگی کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔پس اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! گو ایک عارضی زوال تو ہو گا لیکن غالب اور حکمت والے خدا نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ اب دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی تمام انسانیت کے لئے نجات کا دین ہے ، اب دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی دنیا کے فسادوں کو دور کرنے کے لئے آخری امید گاہ اور علاج ہے۔اب اس دین نے ہی اپنی خوبصورتی دکھا کر دنیا کے دینوں پر غالب آنا ہے۔اب اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لئے مسیح محمدی اور اُس کے ماننے والوں نے ہی کردار ادا کرنا ہے۔پس اللہ تعالیٰ جو رب العالمین ہے ، اُس نے اشرف المخلوقات کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے خیر امت کو اُس کا مقام دلانے کے لئے یہ سامان فرمایا اور آئندہ بھی فرماتا رہے گا۔اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی دلائی کہ یہ عاشق صادق آئے گا جو پھر دنیا میں دین کو قائم کرے گا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے ہی یہ آنے والا مسیح موعود آئے گا۔