خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 400
خطبات مسرور جلد نهم 400 32 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اگست 2011ء تلاوت فرمائی: خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اگست 2011ء بمطابق 12 ظہور 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِييْب - أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لعلهم يرشدون (البقرة :187) اس آیت کا ترجمہ ہے۔اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقینا میں قریب ہوں ، میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔دنیا کو آج جتنی خدا کی طرف جھکنے کی ضرورت ہے اتناہی یہ خدا سے دور جارہی ہے۔یعنی اس دنیا میں بسنے والا انسان جو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے اسے جس قدر دنیا کے فسادوں اور ابتلاؤں سے بچنے کے لئے اور پھر اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے ، اسی قدر اس تعلق میں کمزوری ہے۔خدا سے تعلق جوڑنے کا دعویٰ کرنے والے بھی اُن لوازمات کی طرف توجہ نہیں دے رہے یا دینے کی کوشش نہیں کر رہے یا اُن کو یہ پتہ ہی نہیں کہ خدا سے تعلق جوڑنے کے لئے صرف ظاہری ایمان اور ظاہری عبادت ہی کافی نہیں ہے بلکہ اُس روح کی تلاش کی ضرورت ہے جو ایمان اور عبادات کی گہرائی تک لے جاتی ہے۔یہ تو ایمان کا دعویٰ کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کا دعویٰ کرنے والوں کا حال ہے۔لیکن دنیا کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے (تقریباً تین چوتھائی آبادی جس نے یا تو خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر شریک کھڑے کر کے اپنے آپ کو شرک میں مبتلا کیا ہو ا ہے یا پھر خدا کی ہستی پر یقین ہی نہیں ہے۔خدا کے وجود کے ہی انکاری ہیں، اور نہ صرف آپ خود انکاری ہیں بلکہ ایک دنیا کو بھی گمراہ کرنے کے لئے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑ رہے۔لیکن اس تمام صور تحال میں ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے وعدے پر یقین کرنے والا، اس پر ایمان رکھنے والا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے اور اللہ تعالیٰ کے آپ سے وعدوں کے پورا ہونے کی تصدیق کرنے والا ہے۔جو اس بات پر یقین کرتا ہے