خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 399
399 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم عاجزی سے اور بڑی محنت سے انہوں نے کام کیا۔افریقہ کے بعض ممالک میں بھی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے اُن کو بھجوایا۔میرے ساتھ بھی سندھ کی زمینوں کی وجہ سے اُن کا بڑا تعلق رہا۔نہایت عاجز انسان تھے اور بڑا عزت و احترام کیا کرتے تھے۔باوجو د اس کے کہ عمر میں مجھ سے کئی سال بڑے تھے ، بڑے احترام سے پیش آتے تھے۔اور جب یہ کالج میں پڑھتے تھے تو اس وقت کالج میں چھٹیوں کے دوران حضرت مولوی شیر علی صاحب کے ساتھ انہوں نے ترجمہ قرآن انگریزی میں بھی مدد کی ہے اور اس طرح ان کا قرآنِ کریم کے ترجمہ میں بھی حصہ ہے۔ان کے دو بیٹے ہیں، ایک بیٹی ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن سب کو صبر عطا فرمائے۔اور چوہدری صاحب کے درجات بلند فرمائے۔ان کے بارہ میں لکھا ہے کہ جوانی سے ہی ان کو با قاعدہ تہجد کی عادت تھی، یہ تو میں نے بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے جب بھی میرے ساتھ سفر کیا ہے ، تو تین بجے رات کو یا جو بھی وقت ہوتا تھا تہجد کے لئے اُٹھتے اور بڑے انہماک سے، بڑے خشوع سے تہجد پڑھا کرتے تھے۔بلکہ ان کے خاندان میں ان کی اس نیکی کی وجہ سے صوفی نذیر احمد کے نام سے مشہور تھے۔یا بہت زیادہ نمازیں پڑھنے والے چوہدری صاحب کہلایا کرتے تھے۔تو اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔اس کے علاوہ ایک جنازہ مکرم مرزا رفیق احمد صاحب کا ہے یہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے ، ان کی بھی چار پانچ دن پہلے وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کی جماعتی خدمات تو ایسی کوئی نہیں ہے لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔اللہ کے فضل سے ان سب کا خلافت سے بڑا وفا کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ ان بچوں کو بھی صبر دے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں۔میں ابھی انشاء اللہ نماز جمعہ کے بعد ان سب کے جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 26 اگست تا یکم ستمبر 2011ء جلد 18 شمارہ 34 صفحہ 5 تا 9)